خدا کا خوف
کتابوں میں عمر بن عبد العزیز (61-101ھ ) اور حسن بصری (21-110ھ) کے بارے میں آتا ہے کہ وہ دونوں سب سے زیادہ خوف رکھنے والے تھے، گویا کہ آگ انھیں دونوں کے لیے پیدا کی گئی ہو:مَا رَأَيْتُ أَخْوَفَ مِنَ الْحَسَنِ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ كَأَنَّ النَّارَ لَمْ تُخْلَقْ إِلَّا لَهُمَا (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 5، صفحہ 398)۔
اکابر اہل ایمان کے بارے میں عام طور پر اسی قسم کے اقوال کتابوں میں آئے ہیں۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ یہ لوگ بڑے بڑے گناہوں میں مبتلا ہوئے تھے۔ اس کا سبب غالباً اللہ رب العالمین کی عظمت کا احساس تھا۔ جس انسان کو اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل ہوجائے، اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کے احساس میں جینے لگتاہے۔ اللہ کی عظمت کا احساس اس کے اوپر اتنا زیادہ چھا جاتا ہے کہ وہ بظاہر اللہ کی عظمت کے سوا کچھ اور سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔
اگر آپ صحرا (desert) میں ہوں، اور کبھی آفتاب (Sun) کو دیکھیں، جب کہ وہ کھلے آسمان میں بھرپور انداز میں دکھائی دے رہا ہو۔ تو آپ کے اوپر عجیب قسم کی دہشت طاری ہوجائے گی۔ اس وقت آپ اپنے وجود کو بھول جائیں گے، اور آپ کو صرف آفتاب کی بڑائی یاد آئے گی۔ اس تجربے سے بے حساب گنا زیادہ بڑا تجربہ وہ ہے، جب کہ بندۂ مومن کو اللہ رب العالمین کی ہستی کا ادراک ہوجائے۔ وہ اللہ کی عظمت کے احساس سے کانپ اٹھے گا۔ اس کو اپنا وجود اتنا حقیر دکھائی دے گا، گویا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ یہی تجربہ زیادہ بڑے درجے میں اہل ایمان کو اس وقت ہوتا ہے، جب کہ وہ اللہ رب العالمین کی عظمت میں جینے والے بن گئے ہوں۔اللہ رب العالمین کی عظمت تمام عظمتوں سے زیادہ عظیم ہے۔ اس کا تجربہ آپ اس طرح کرسکتے ہیں کہ آپ قرآن کی آیت الکرسی (البقرۃ،2:255) کو گہرے احساس کے ساتھ پڑھیں۔
