یک طرفہ رپورٹنگ
آج کل جس مسلمان سے بات کیجیے، وہ ہمیشہ ایک ہی بات کو دہرائے گا، اور وہ مسلمانوں پر ظلم کی بات ہے۔ اگر ان سے مزید گفتگو کیجیے تو وہ نیوز پیپر کی خبروں کا حوالہ دے گا۔ اخباری خبریں کیا ہیں۔ وہ یک طرفہ خبر رسانی کی مثال ہیں۔ قرآن کے مطابق، اس قسم کی یک طرفہ خبروں کو مان لینا درست نہیں ہے، بلکہ رائے بنانے سے پہلےغیر جانبدارانہ انداز میں ان کی تحقیق کرلینی چاہیے۔
جولوگ اس قسم کی یک طرفہ خبروں کی بنیاد پر ظلم کی داستان سناتے ہیں، یا اسلامو فوبیا (islamophobia) کی باتیں کرتے ہیں، ان سب پر قرآن کی یہ آیت صادق آتی ہے:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ(49:6)۔ یعنی، اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تم اچھی طرح تحقیق کرلو، کہیں ایسانہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانی سے کوئی نقصان پہنچا دو، پھر تم کو اپنے کیےپر پچھتانا پڑے۔
اس آیت پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں فاسق سے مراد وہ انسان ہے، جو یک طرفہ رپورٹنگ کرتا ہے، یعنی جو سنا، بس اس کو تحقیق کے بغیر دہرانے لگا۔ موجودہ زمانے میں یک طرفہ رپورٹنگ کا انداز اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید اس میں کوئی استثنا نہیں۔ حتی کہ جب وہ جوش وخروش کے ساتھ ایک خبر بتارہے ہوتے ہیں، تو ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ یک طرفہ رپورٹنگ کی غلطی کررہے ہیں، اور یک طرفہ رپورٹنگ اسلام میں جائز ہی نہیں۔
موجودہ زمانے میں تقریبا تمام مسلمان اسی یک طرفہ رپورٹنگ کے شکار ہیں۔ یک طرفہ رپورٹنگ کا یہ طریقہ بلاشبہ ایک جرم ہے۔ قرآن کے الفاظ میں وہ فسق کا معاملہ ہے۔ وہ آدمی کے فاسقانہ کردار کو بتاتا ہے۔ یک طرفہ رپورٹنگ ناقص مطالعہ کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ یک طرفہ رپورٹنگ اور ذہنی ارتقا دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ یک طرفہ رپورٹنگ سے آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رُک جاتا ہے۔ آدمی تخلیقی فکر (creative thinking) سے محروم ہوجاتا ہے۔
