منفی ذہن کا قاتل
ایک مومن جب قرآن کو پڑھتا ہے۔ اور اس پر غور کرتا ہے ،یا جب وہ سفر کرتا ہے۔ اور سفر کے دوران وہ معرفت کا رزق حاصل کرتا ہے۔ اور اس طرح کے دوسرے افعال جو وہ صبح شام کرتا ہے، یہ سب کچھ اُس انفراسٹرکچر کی مدد سے ہوتا ہے جو جدید ٹکنالوجی کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ یہ جدید انفراسٹرکچر کس نے تیار کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب زیادہ تر غیر اہلِ ایمان نے تیار کیا ہے۔ یہ لوگ مادی ترقی کے میدان میں مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں۔ اسی بنیاد پر ایک مومن کے لیے یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اس انفراسٹرکچر کو استعمال کرکے اپنے دینی ارتقا کا سامان کر سکے۔
گویا یہ لوگ اہلِ ایمان کو مادی ترقی کی جدوجہد سے بے نیاز کیے ہوئے ہیں۔ وہ خاموش زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ تم اپنا دینی کام کرو، ہم تمہارے حصے کا مادی کام انجام دیتے رہیں گے۔ ایسا کرتے ہوئے اگر وہ کچھ مالی یا سیاسی فائدہ حاصل کر رہے ہیں، تو گویا وہ ان کے عمل کے لیے محرک(incentive) کی حیثیت رکھتا ہے۔اگر یہ محرک موجود نہ ہو تو وہ ہماری مادی تائید کا کام بھی انجام نہ دیں۔
تائید کا یہ معاملہ ہر انسان کے ساتھ ہر سطح پر پیش آرہا ہے۔ ہر ایک کی زندگی میں دوسرے لوگ بڑے پیمانے پر کنٹری بیوشن(contribution) دے رہے ہیں — ہوم کنٹری بیوشن، سوشل کنٹری بیوشن، نیشنل کنٹری بیوشن، انٹرنیشنل کنٹری بیوشن، سویلائزیشن کنٹری بیوشن۔کنٹری بیوشن کا یہ کام زیادہ تر مادہ پرست لوگ انجام دے رہے ہیں۔اس طرح وہ اہلِ دین کو فارغ کر رہے ہیں کہ وہ پوری طرح یکسو ہو کر اپنے دینی امور کو انجام دیتے رہیں۔
اہل دین کو اگر اس حقیقت کا زندہ شعور حاصل ہو جائے تو ان کے منفی ذہن کا کلّی خاتمہ ہو جائے۔ ان کو معلوم ہو جائے کہ وہ بالواسطہ طور پر ہماری بہت بڑی تائید کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہم کو فارغ کر رکھا ہے کہ ہم پوری یکسوئی کے ساتھ اپنے دینی کام کو انجام دیتے رہیں۔اس کے بعد اہل دین کے اندر منفی ذہن کا خاتمہ ہو جائے۔ وہ نفرت کے بجائے ان سے محبت کرنے لگیں۔
