تربیت ِ اولاد
میرے گھر کے سامنے ایک پارک ہے، جہاں لوگ چہل قدمی (walking) کے لیے آتے ہیں۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ ایک خاتون اپنے بیٹے کے ساتھ پارک میں آئی۔ بیٹے کی عمر تقریباً آٹھ سال لگ رہی تھی۔ خاتون کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ اس کا بیٹا سائیکل چلا رہا تھا، اور وہ اس کے ساتھ ساتھ تیزی سے چل رہی تھی تاکہ وہ اپنے بیٹے کو گرنے سے بچائے، یا اگر وہ گر جائے تو اسے فوراً اٹھا سکے۔
ماں بظاہر بیٹے کی ہمدردی میں ایسا کر رہی تھی، مگر نفسیاتی تشکیل کے اعتبار سے وہ اس کے ساتھ ہمدردی نہیں، بلکہ اس کا نقصان کر رہی تھی۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی نقصان تھا جسے نفسیات کی اصطلاح میں Elephant Rope Syndrome کہا جاتا ہے۔
یہ ایک نفسیاتی اصطلاح ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بچپن میں ہاتھی کو ایک مضبوط رسی یا زنجیر سے باندھا جاتا ہے۔ وہ بار بار کوشش کرتا ہے کہ زنجیر توڑ کر آزاد ہو جائے، لیکن ناکام رہتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کے شعور میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ وہ کبھی اس کو توڑ کر آزاد نہیں ہو سکتا۔ بعد میں جب وہ بڑا اور طاقتور ہو جاتا ہے تو برعکس طور پر اس کو ایک معمولی رسی سے باندھا جاتا ہے،جس کو وہ آسانی سے توڑ سکتا ہے۔ مگر وہ اس کو توڑنے کی کوشش نہیں کرتا، کیونکہ اس کے ذہن میں یہ یقین بیٹھ چکا ہوتا ہے کہ وہ اپنے بندھن سے آزاد نہیں ہو سکتا۔
Baby Elephant Syndrome is where a baby elephant is tied to a strong rope or chain at a young age and is unable to break free of the constraint. When the elephant matures, the elephant has grown strong enough to uproot trees and surely break the rope, but the elephant has been conditioned to accept this constraint. Even if a weak rope is used, the elephant will not attempt to break free. The constraint is now in the mind of the elephant opposed to an actual physical constraint.
یہی معاملہ وہ ماں اپنے بیٹے کے ساتھ کر رہی تھی۔ وہ غیر شعوری طور پر اپنے بیٹے کے ذہن میں یہ بات بٹھا رہی تھی کہ اگر زندگی میں اسے کوئی مشکل پیش آئے گی تو وہ خود اس سے نہیں نکل سکے گا، بلکہ اسے کسی ایسے سہارے کی ضرورت ہوگی جو مشکل کے وقت اس کی مدد کرے۔ حالانکہ یہ طرزِ عمل قانونِ فطرت کے خلاف ہے۔ نہ تو ہر وقت ماں موجود رہ سکتی ہے، اور نہ ہی کوئی دوسرا انسان ماں جیسا پُرخلوص ہوتا ہے۔ یہی وہ غلطی ہے جو عام طور پر والدین اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ بظاہر والدین اپنے بچوں کی محبت میں ایسا کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اپنے بچوں کو اسی کمزوری کا شکار بنا دیتے ہیں جس کو نفسیات کی اصطلاح میں Elephant Rope Syndrome کہا جاتا ہے۔
والدین کا اصل فرض یہ ہے کہ وہ اپنے بچے کے دین و حکمت اوراخلاقی اقدار کے نگراں بن جائیں۔ وہ اپنے بچے کے لیے مذکورہ ماں کی طرح توجہ اور نگرانی رکھیں، مگر اس فرق کے ساتھ کہ وہ ماں اسے صرف وقتی مشکل سے بچانے کے لیے ایسا کر رہی تھی، جب کہ والدین اس انداز سے رہنمائی کریں کہ بچہ بچپن ہی سے خلافِ دین اور خلافِ اخلاق کاموں سے بچنے کی عادت اختیار کرے، وہ اس کو حکمت کی تعلیم دیں۔ یعنی دین، اخلاقی اقدار اور حکیمانہ طرز عمل کے معاملے میں مکمل نگرانی رکھیں، اور عزم و حوصلہ کے معاملے میں اسے آزاد چھوڑدیں۔ کیونکہ ہر بچہ فطری طور پر عزم و حوصلہ کی صلاحیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔
ہر انسان کے اندر اللہ تعالی نے صلاحیت رکھی ہے کہ وہ ،ایک ماہر نفسیات کے الفاظ میں، اپنے ’’نہیں‘‘ کو ’’ہے‘‘ میں بدل سکے۔ اس کے برعکس، دین ،اخلاق اور حکیمانہ طرز عمل وہ امورہیں، جو کسی انسان کو خود بخود حاصل نہیں ہوتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق تعلیم و تربیت اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا یہی مقصد تھا۔ یہی دینی و اخلاقی تربیت انسان کے عزم اور حوصلے کو غلط رخ پر جانے سے روکتی ہے۔(ڈاکٹر فریدہ خانم)
———————
انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس سے زیادہ سمجھ لیتا ہے، جتنا کہ فی الواقع وہ ہے۔ یہی تما م جھگڑوں اور شکایتوں کی جڑ ہے۔
