معاش کا مسئلہ

آج کل اکثر لوگ معاشی مسائل کی بات کرتے ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ مسئلے کی بات نہیں ہے،بلکہ خود زمانے سے بے خبری کی بات ہے۔ موجودہ زمانہ انفجارِ روزگار (explosion of job) کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں کام کی اتنی صورتیں پیدا ہوگئی ہیں کہ یہ ناممکن ہو گیا ہے کہ آدمی واقعی طور پر روزگار چاہے، اور اس کو روزگار نہ ملے۔قدیم زمانہ زراعت کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں صرف کھیت کے کچھ کام ہوا کرتے تھے۔ اب صنعت (industry) اور سروس کا زمانہ ہے۔اس طرح موجودہ زمانے میں بے شمار نئے کام پیدا ہوگئے ہیں۔اس زمانے میں بے روزگاری کی شکایت کرنے والے عام طور پر وہ لوگ ہوتے،جو کہتے ہیں کہ میں صرف اسی کام کو انجام دوں گا جو میرے طے کیے ہوئےمعیار کے مطابق ہو،اور جو میرےمعیار کے مطابق نہ ہو، میں اس کو انجام نہیں دوں گا۔مگر یہ ایک قسم کا انیکرونزم (anachronism)ہے۔

قدیم زمانے میں تعلیم ایک بے حد محدود دائرے کا نام تھی۔ اب تعلیم ہزاروں قسم کے نئے شعبوں کا نام بن گئی ہے۔ قدیم زمانے میں ہنر اور مزدوری میں کوئی فرق نہیں ہوا کرتا تھا۔ موجودہ زمانے میں ہنر ایک مستقل ذریعہ معاش بن گیا ہے۔ بے شمار قسم کے نئے نئے ہنر پیدا ہوگئے ہیں، اور ان کو سیکھ کر اکثر لوگ ان سے بھی زیادہ کمائی کررہے ہیں، جتنا کہ ڈگری والے کمائی کرتے ہیں۔

مثلاً موجودہ زمانے میں بہت سے ایسے نوجوان ہیں، جو غریب گھروں میں پیدا ہوئے، ان کے ماں باپ کے پاس تعلیم کی فیس ادا کرنے کی رقم موجود نہ تھی۔ ایسی نوجوانوں نے چھوٹے چھوٹے کام پکڑ لیے،اور غربت کے باوجود اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ مثلاً کوئی نوجوان گھر گھر اخبار پہنچانے لگا، کسی نوجوان نے ہر گھر انڈا اور چائے اور شکر جیسی چیزیں پہنچانے کا کام شروع کردیا۔ اس طرح انھوں نے اپنی پڑھائی کو جاری رکھا، یہاں تک کہ کچھ سالوں کے بعد ڈگری والی تعلیم حاصل کرلی، اور اب وہ کسی آفس میں جاب حاصل کرکے سماج میں باعزت زندگی گزار ہے ہیں۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion