راستہ تنگ نہیں
فتح مکہ کے بعدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مکہ سے طائف جارہے تھے۔ درمیان میں ایک پہاڑی راستہ ملاجوبظاہرتنگ تھا۔وہاں پہنچ کر آپ نے لوگوں سے پوچھاکہ اس راستہ کانام کیاہے ،لوگوں نے بتایاکہ اس کو تنگ راستہ (الضّيْقَةُ) کہاجاتاہے ۔آپ نے فرمایاکہ نہیں ،بلکہ یہ آسان راستہ ہے (بَلْ هِيَ الْيُسْرَى) مغازی الواقدی، جلد 3، صفحہ 925۔
اس کامطلب یہ تھاکہ یہ صحیح ہے کہ بطورِواقعہ یہ راستہ تنگ ہے ۔اگر ہم پھیل کراس میں جاناچاہیں تو ہم نہیں جاسکیں گے لیکن ہم اس طرح اس کو آسان بناسکتے ہیں کہ ہم سمٹ کرقطار کی صورت میں اس سے گزریں۔ایسی صورت میں راستہ کی تنگی ہمارے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی ۔
اس سے معلوم ہواکہ پیغمبر انہ نگاہ یہ ہے کہ تنگی کو بھی کشادگی کے روپ میں دیکھاجائے ۔تنگی میں بھی کشادگی کا راز دریافت کیاجائے۔منفی باتوں میں بھی مثبت پہلوتلاش کرلیے جائیں ۔
تنگی بذاتِ خودتنگی ہے ۔راستہ کی چٹان ہرحال میں چٹان ہی رہتی ہے ۔جوفرق ہے وہ خود تنگی یاچٹان میں نہیں ہے بلکہ اس میں ہے کہ جب کوئی تنگ راستہ سامنے آجائے یاچٹان حائل ہوتو اس وقت طریقِ عمل کیااختیارکرناچاہیے۔
ایک طریقہ براہِ راست مقابلہ کا ہے اوردوسرا اعراض کا۔براہ ِ راست مقابلہ میں تنگی اورچٹان بدستور تنگی اورچٹان بنے رہتے ہیں مگر اعراض کاطریقہ ان کے وجود کو عملی طورپرغیر موثربنادیتاہے ۔
جب بھی ایساہوکہ آپ کے سفر میں کوئی رکاوٹ پیش آجائے تو اس سے ٹکرانے پر اپناذہن نہ لگائیے بلکہ یہ سوچئے کہ رکاوٹ کونظرانداز کرکے آپ کو ن سا ایساحل پاسکتے ہیں جس کے بعد رکاوٹ اپنی جگہ باقی رہتے ہوئے بھی آپ کے لیے ایک غیر موجود چیز بن جائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہرراستہ تنگ ہی ہوتاہے ۔تنگی اورکشادگی دونوں اضافی چیزیں ہیں۔حقیقی چیز صرف ایک ہے اوروہ تدبیر ہے ۔اورتدبیر مکمل طورپراورہمیشہ انسان کے بس میں ہوتی ہے ۔