انسان ایک استثنائی مخلوق
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ اِس کے مطابق، آپ نے فرمایا: خلق اللہ آدم علیٰ صورتہ (صحیح البخاری، کتاب الإستئذان؛ صحیح مسلم، کتاب البر، کتاب الجنۃ؛مسند احمد، جلد 2،صفحہ 244) یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی شکل وصورت کے اعتبار سے، انسان خدا کے مانند ہے۔ یہاں ’’صورت‘‘ سے مراد صفات (attributes) ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو محدود طورپر وہ صفات عطا فرمائی ہیں جو اللہ کی ذات میں اپنے کمال درجے میں موجود ہیں۔
انسان پوری کائنات میں ایک استثنائی مخلوق ہے۔ انسان ایک زندہ وجود ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کو ایک جامع شخصیت (personality) عطا ہوئی ہے۔ انسان سوچتا ہے، انسان دیکھتا ہے، انسان سنتا ہے، انسان منصوبہ بند عمل کرتا ہے، انسان اپنے حواس خمسہ کے ذریعہ چیزوں سے انجوائے کرسکتاہے۔ اِس قسم کی استثنائی خصوصیات ہیں جو پوری کائنات میں صرف انسان کا حصہ ہیں۔
انسان کو یہ استثنائی عطیات اِس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ استثنائی عمل کا ثبوت دے۔ یہ استثنائی عمل خالق کی شعوری معرفت ہے۔ اِس طرح خداوند ِ ذوالجلال نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ معرفت کے درجے میں خدا کو دریافت کرے۔ وہ غیب کی حالت میں خدا کو دیکھے۔ وہ اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے بے اختیار کرلے۔ مجبوری کے بغیر وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے سرینڈر کردے۔ وہ اپنے شعور کو بیدار کرکے اپنا ذہنی ارتقا کرے، وہ ذاتی دریافت کے درجے میں سچائی کو پائے۔ وہ سجدۂ معرفت کی سطح پر خدا کے آگے جھک جائے۔ وہ پورے عالمِ فطرت کو اپنی روحانی غذا بنالے۔ وہ اپنی شخصیت کا ارتقا اِس طرح کرے کہ وہ خداوند ِ ذو الجلال کے پڑوس میں جگہ پانے کا مستحق بن جائے— جوآدمی اپنے اندر اِس قسم کی شخصیت (personality) نہ بناسکے، وہ صرف انسان نما حیوان ہے، اس کی کوئی قیمت خدا کے یہاں نہیں۔