ٹائم مینجمنٹ
قرآن کی سورہ نمبر ۴ میں نماز کا حکم بتایا گیا ہے جو اسلام میں اہم ترین عبادت ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کاترجمہ یہ ہے :
’’ بے شک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقرر وقتوں میں‘‘(النساء:۱۰۳)
نماز اسلام کی ایک بنیادی عبادت ہے۔ اس کا ادا کرنا ہر مسلمان پر ہرروز کے لیے فرض ہے۔ وہ رات اور دن کے درمیان پانچ بار مقررا وقات پر ادا کی جاتی ہے۔ جس طرح نماز کی ادائیگی ضروری ہے اسی طرح اس کے اوقات کی پابندی بھی ضروری ہے۔
نماز اصلا ایک عبادت ہے۔ مگر اس کی ادائیگی میں اوقات کی پابندی کو شامل کر دیا گیا ہے۔ اس طرح نماز گو یا وقت کی پابندی کاایک سبق ہے جو ہر دن لازمی طور پر انجام دیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ نماز عبادت کے ساتھ ٹائم مینجمنٹ (time management) کی ایک لازمی تربیت ہے۔ اس طرح نمازی کے رات اور دن کو پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ (۱) فجر سے لے کر ظہر تک(۲) ظہر سے لے کر عصرتک(۳)عصر سے لے کر مغرب تک(۴) مغرب سے لے کر عشاء تک(۵) عشا ء سے لے کر فجر تک۔
انسان کے پاس سب سے قیمتی چیز وقت ہے۔ وقت کے صحیح استعمال کاانجام کامیابی ہے اور وقت کے غلط استعمال کاانجام ناکامی ہے۔ نماز کی صورت میں ٹائم مینجمنٹ کا سبق جو ہر روز دیا جاتا ہے وہ اس دنیا میں کامیاب زندگی کو یقینی بناتا ہے۔ آدمی اگر اپنے رات اور دن کے اوقات کو اس طرح پانچ خانوں میں تقسیم کرلے اور روزانہ اس کی پابندی کرے تووہ اپنی پوری زندگی کو بھر پور طورپر استعمال کر سکتا ہے۔ اور اس دنیا میں جو آدمی اپنے ملے ہوئے اوقات کو منظم طور پر اور بھر پور طورپر استعمال کرے اس کوکوئی بھی چیز اعلیٰ کامیابی تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔
ٹائم مینجمنٹ کا مطلب، دوسرے لفظوں میں لائف مینجمنٹ ہے۔ زندگی کو درست طو رپر کیسے گذار اجائے، اس کابہت گہرا تعلق اس سے ہے کہ آدمی اپنے اوقات کو کس طرح استعمال کرے۔ جس آدمی کے اندر وقت کے درست استعمال کامزاج پیدا ہو جائے وہ اسی کے ساتھ دوسری بہت سی برائیوں سے بچ جائے گا۔ وقت کا صحیح استعمال آدمی کو اس قابل بنا ئے گا کہ وہ اپنے حاصل شدہ ذرائع کو درست طور پر استعمال کرے۔
مثلا ٹائم مینجمنٹ کامزاج آدمی کو سادہ زندگی پر مجبور کر دیتا ہے۔ کیوں کہ سادہ زندگی اختیار نہ کرنے کامطلب یہ ہے کہ ایک معاملے میں ضرورت سے زیادہ توجہ دینا، دوسرے معاملے میں کمی کے ہم معنی بن جا تا ہے۔ اسی طرح تفریح کامزاج آدمی کویہ نقصان پہنچاتا ہے کہ اس کے پاس دوسرے زیادہ ضروری کاموں کے لیے وقت ہی نہ رہے۔ اسی طرح لذیذکھانوں کاشوق آدمی کے لیے اس نقصان کا سبب بنتا ہے کہ وہ زندگی کے دوسرے ضروری پہلوؤ ں کے بارے میں غافل ہوجائے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹائم مینجمنٹ اپنے اوقات کی درست تقسیم کادوسرانام ہے۔ جب آدمی کے اندر صحیح معنوں میں ٹائم مینجمنٹ کا احساس پیدا ہوجائے تو اس کالازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ بہت سی غیر ضروری یاغیر اہم چیزوں سے بچ جائے گا۔ مثلا فضول خرچی، مصنوعی تکلفات، غیر حقیقی مشاغل، وقتی تفریحات،وغیرہ۔
زندگی میں سادگی کی بے حداہمیت ہے۔ سادگی بامقصد انسان کاکلچر ہے۔ تاہم ساد گی کے اصول پر وہی شخص قائم رہ سکتاہے جو ٹائم مینجمنٹ کی اہمیت کو سمجھ لے، وہ اپنے اوقات کے بارے میں پوری طرح حسّاس ہو جائے۔ ایسا آدمی جب بھی ساد گی کے خلاف کوئی کام کرے گا تو اس کی یہ حساسیت اس کو فور اًروک دے گی۔ وہ محسوس کرے گا کہ وہ ساد گی کے خلاف طریقہ استعمال کرکے اپنے آپ کو اس ہلاکت میں ڈال رہاہے کہ اس کے پاس زیادہ اہم کاموں کے لیے نہ پیسہ رہے اور نہ وقت۔