اسلام کیا ہے
اسلام کا آغاز کلمہ ٔ شہادت سے ہوتا ہے، یعنی زبان سے اِن الفاظ کو ادا کرنا: أشہد أن لا إلٰہ إلاّ اللّہ، وأشہد أنّ محمداً عبدُہ ورسولہُ (میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد، اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں)۔گواہی یہ ہے کہ آدمی اپنے ذاتی علم کی بنیاد پر ایک بیان دے:
Giving a statement on the basis of direct knowledge.
اسلام کا آغاز معرفت سے ہوتا ہے۔ ایک انسان جو سچائی کا متلاشی ہو، وہ تلاش وجستجو کے بعد سچائی کی دریافت کرتا ہے۔ اُس کا دل اِس یقین سے بھر جاتا ہے کہ جو چیز میں نے دریافت کی ہے، وہ کامل سچائی ہے۔ اُس وقت فطری طورپر وہ یہ کرتا ہے کہ جس حقیقت کو اُس نے دل و دماغ کی سطح پر پایا ہے، اُس کا اعلان وہ اپنی زبان سے کرے۔ کلمہ ٔ شہادت اعلانِ معرفت ہے، نہ کہ محض تکرارِ الفاظ۔اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ نہیں، صرف معبودیت کے معنیٰ میں ہے، یعنی خدا ہی معبودِ حقیقی ہے۔ وہی اِس قابل ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، وہی روزِ جزا کا مالک ہے، کسی بھی اعتبار سے کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں۔
لا إلٰہ إلاّ اللّہکا مطلب ہے: لا معبودَ إلّا اللّہ، لیکن کچھ لوگوں نے خود ساختہ طورپر اُس میں نئے معانی شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاً کچھ لوگ وحدتِ وجود (monism) کے نظریے سے متاثر ہوئے۔ انھوں نے اپنے اِس تصور کو اسلامی عقیدے میں شامل کرنے کے لیے کہا: لاَ موجودَ إلاّ اللّٰہ، یعنی جس طرح خدا کے سوا کوئی معبود نہیں، اُسی طرح خدا کے سوا کوئی اور موجود نہیں۔ اِسی طرح کچھ اور لوگوں نے اِس عقیدے میں سیاست کو شامل کرنا چاہا تو انھوں نے کہہ دیا کہ: لا حاکم إلاّ لِلّٰہ، یعنی خدا جس طرح فوق الفطری معنیٰ میں معبود ہے، اِسی طرح وہ سیاسی معنیٰ میں حاکم بھی ہے۔
اس طرح کے تمام اضافے بلاشبہہ باطل ہیں، یہ اسلام میں تحریف کے ہم معنیٰ ہیں۔ لا الٰہ إلاّ اللّٰہ کا کلمہ، عقیدے سے تعلق رکھتا ہے۔ اور عقیدے میں قیاس اور استنباط اور اجتہاد سرے سے جائز نہیں۔