وزڈم میگزین
ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا۔ اس وقت دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ماہنامہ الرسالہ پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: آپ کا میگزین چلنے والا نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کا میگزین ایک سجسٹیو (suggestive) میگزین ہوگا۔ جب کہ آج کا انسان صرف ایسے میگزین کو چاہتا ہے جو انفارمیٹیو (informative) میگزین ہو۔ واقعات نے بتایا کہ مذکورہ مسلمان کی رائے درست نہ تھی۔ انھوں نے ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking)کے تحت اپنا تبصرہ کیا تھا۔ ان کو شاید یہ معلوم نہ تھا یہاں میگزین کی ایک تیسری صورت بھی ہے، جس پر ان کا تبصرہ منطبق نہیں ہوتا۔ اور وہ ہے وزڈم میگزین (wisdom magazine) ۔ وزڈم میگزین ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی زبان میں جاری کیا جائے۔
وزڈم کا مطلب دانش یا حکمت ہے۔ مثلاً ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ انجنیر ہیں۔ اور ایک یوروپین کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے وہ ایک کامیاب انسان ہیں۔ ان کے پاس رہنے کے لیے ذاتی فلیٹ ہے۔ سواری کے لیے کار ہے۔ان کے بچے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کمپنی کی سروس کی بنا پر ہے۔ لیکن گفتگو کے دوران انھوں نے اپنی کمپنی کی شکایت کی ۔ انھوں نے کہا کہ کمپنی میں ایک امتیاز (discrimination) پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کے یہاں انڈین کی تنخواہ کم ہوتی ہے، اور وائٹ یوروپین کی تنخواہ بہت زیادہ۔
میں نے کہا کہ آپ کی شکایت درست نہیں۔ آپ غلط تقابل (wrong comparison) کا شکار ہیں۔ آپ یورپین کمپنی کا تقابل انڈین کمپنی سے کررہے ہیں۔ اس کے بجائے آپ کو ایک انڈین کمپنی کا تقابل دوسری انڈین کمپنی سے کرنا چاہیے۔اگر آپ صحیح تقابل(right comparison) کا طریقہ اختیار کریں تو آپ کی شکایت ختم ہوجائے گی۔ یہ وزڈم کی بات ہے۔ لوگوں کے اندر عام طور پر یہ وزڈم نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ شکایت میں جیتے ہیں۔ ایسے حالت میں لوگوں کو ایک ایسے میگزین کی ضرورت ہے جو ان کے معاملات میں وزڈم کی بات بتائے۔
