موت کی یاد:ایک صحت مند عمل

ایک اسٹڈی کے ذریعے یہ معلوم ہوا ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ وہ تندرستی کے لیے مفید ہے۔ اِس کا یہ فائدہ ہے کہ آدمی اپنی ترجیحات اور اپنے نشانے کو دوبارہ قائم کرتاہے۔ ایک نئے سائنسی تجزیے میں بتایاگیاہے کہ اگر آدمی کسی قبرستان سے گزرے، تب بھی وہ غیر شعوری طور اُس سے سبق لیتاہے اور اس کے اندر مثبت تبدیلی آتی ہے اور اس کے اندر دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اِس سے پہلے یہ سمجھا جاتا تھا کہ موت کے بارے میں سوچنا خطرناک ہے، اِس سے تخریبی ذہن پیدا ہوتا ہے۔ موت کی یاد سے تعصب اور تشدد کا جذبہ ابھرتاہے۔

Thinking about death boosts health

Thinking about death can actually be a good thing as an awareness of mortality can improve physical health and help in prioritizing one’s goals and values, as new study has revealed. According to a new analysis of recent scientific studies, even non-conscious thinking about death like walking by a cemetery could prompt positive changes and promote helping others. Past research suggests that thinking about death is destructive and dangerous, fuelling everything from prejudice and greed to violence

(The Times of India, New Delhi, April 21, 2012, p. 21)

عام طورپر یہ سمجھا جاتاتھا کہ موت کے بارے میں سوچنے سے عمل کا جذبہ سرد پڑ جاتا ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر منفی سوچ پیدا ہوتی ہے، مگر یہ صرف ایک قیاسی بات تھی۔ اِس مسئلے کا باقاعدہ علمی مطالعہ کیاگیا تو معلوم ہوا کہ معاملہ اِس کے بالکل برعکس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے بارے میں سوچنا ایک اچھی عادت ہے۔ اِس سے آدمی کے اندر صحت مند صفات پیدا ہوتی ہیں۔

قرآن میں آیا ہے:كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ (3:185)۔ یعنی ہر شخص کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ اِس سلسلے میں ایک حدیثِ رسول اِن الفاظ میں آئی ہے:أکثروا ذکر هادم اللذات،الموت (سنن الترمذي، حديث نمبر2307)۔یعنی موت کو بہت زیادہ یاد کرو، وہ لذتوں کو ڈھا دینے والی ہے۔ موت کی یاد حقیقت ِ حیات کی یاد ہے۔ موت کی یاد آدمی کو بتاتی ہے کہ اس کے پاس لامحدود وقت نہیں۔ کسی بھی لمحہ وہ وقت آسکتا ہے، جب کہ اس کی موجودہ زندگی ختم ہوجائے۔

اِس طرح موت کی یاد آدمی کے اندر جلدی کا احساس (sense of urgency) پیدا کرتی ہے۔ آدمی کے اندر یہ محرک (incentive) پیدا ہوتاہے کہ وہ اپنے کام کو جلد پورا کرے، کیوں کہ کچھ معلوم نہیں کہ کب وقت ہوجائے اور کام کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔ اِس طرح موت کی یاد آدمی کو منصوبہ بند عمل کرنے پر ابھارتی ہے۔ اور منصوبہ بند عمل بلا شبہہ زندگی میں سب سے بڑی چیز ہے۔

موت کی یاد آدمی کے اندر ذہنی بیداری (intellectual awakening)کی صفت پیدا کرتی ہے۔ موت کی یاد آدمی کی چھپی ہوئی ذہنی صلاحیتوں کو جگاتی ہے۔ موت آدمی کے لیے ذہنی ارتقا (intellectual development) کا ذریعہ ہے۔

اسلامی نظریہ حیات کے مطابق، موت کی یاد کا فائدہ بے شمار گُنا بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی نظریۂ حیات بتاتا ہے کہ آدمی کی زندگی موت پر ختم نہیں ہوتی۔ موت کے بعد ایک اور زندگی ہے جو کہ ابدی طورپر قائم رہنے والی ہے۔ آدمی موت سے پہلے کے دور حیات میں جیسا عمل کرے گا، اُسی کے مطابق، وہ موت کے بعد کے دورِ حیات میں کامیاب یا ناکام رہے گا۔ یہ احساس آدمی کے اندر مقصدیت کا شعور پیدا کرتا ہے۔ وہ زیادہ با معنی انداز میں زندگی گزارنے کے قابل بن جاتا ہے۔

عام تصور كے مطابق، موت كي ياد صرف موت كي ياد هے، يعني خاتمهٔ حيات كي ياد۔ ليكن اسلامي تصورِ حيات كے مطابق، موت كي ياد كا مطلب يه هے كه آدمي بعد از موت دورِ حيات كے ليے تياري كرے۔ وه آج كي زندگي كو ايك موقع (opportunity) سمجھے، جب كه وه بعد كو آنے والے ابدي دورِ حيات كے ليے عمل كرسكتا هے۔ يه تصورِ موت آدمي كو اِس حقيقت كي ياد دلاتاهے—  زندگي صرف ايك بار ملتي هے۔ اب يه آدمي كے اپنے اوپر هے كه وه اپني زندگي كو كامياب بناتا هے يا ناكام۔ وه اِس پهلے اور آخري موقع كو استعمال كرتا هے يا وه اُس كو كھو ديتا هے۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion