کنٹری بیوشن کا سوال
ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں پڑھتا ہوں۔ آپ کی تحریریں مجھ کو مفید معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ دوسروں کا کنٹری بیوشن نہیں مانتے۔ میں نے کہا کہ میرے بارے میں یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ میں جو کچھ کہتاہوں وہ صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک نیا زمانہ ہے۔ مگر ہمار ے لکھنے والے لوگ رد عمل کی نفسیات کی بنا پرموجودہ زمانے سے بے خبر رہے، عربی داں بھی اور انگریزی داں بھی۔ اس بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا وہ جدید تقاضوں کے لحاظ سے غیر متعلق (irrelevant) تھا، وہ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا نہ تھا۔
یہ بات میں تین موضوعات کے بارے میں کہتا ہوں — معرفت، دعوت، جدید چیلنج۔ موجودہ زمانے کے لکھنے والوں نے بظاہر اسلام کے ہر پہلو پر کتابیں لکھیں، مگر ان کی کتابیں جدید فکری مستویٰ کے مطابق نہ تھیں۔اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ہو تو وہ متعین مثال کی زبان میں بتائےکہ مذکورہ تین موضوعات پر کس مصنف نے کون سی کتاب لکھی ہے۔ کسی اور پہلو سے کس کا کنٹری بیوشن کیا ہے،وہ ایک الگ سوال ہے۔ میری مذکورہ بات سے اس کا کوئی براہ راست تعلق نہیں۔کسی کتاب کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا (4:63)۔ اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ بات کو پنٹریٹنگ (penetrating) اسلوب میں کہنا۔یعنی ایسے اسلوب میں جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ بولنے والا بولنے سے پہلے مخاطب کے ذہن کو غیر متعصبانہ انداز میں پڑھے۔ وہ مخاطب کے ذہن کو اس طرح دیکھے جس طرح مخاطب خود اس کو دیکھتا ہے۔ مخاطب کی اس طرح دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ کہنے والا اپنی بات کو اس طرح کہے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والي بن جائے۔ اس طرح کے کلام کی دو لازمی شرطیں ہیں، یعنی مخاطب سے کامل واقفیت اور اس سے کامل خیرخواہی۔
