قرآن کی تعلیم

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خيركم من تعلم القرآن وعلمه ۔(صحیح البخاری، حدیث نمبر 5027)تم میں اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور قرآن کو سکھایا۔اس حدیث میں تعلیم اور تعلم سے مراد صرف قرآن کے عربی متن کا تعلیم و تعلم نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم اس سے زیادہ وسیع ہے۔اس حدیث میں قرآن کے علم کے ساتھ متعلقات قرآن کا علم بھی شامل ہے۔

قرآن کے متعلق علوم سے مراد تمام انسانی علوم ہیں۔ سب سے پہلے اس میں وہ علوم شامل ہیں جن کا حوالہ قرآن میں کسی پہلو سے آیا ہے۔مثلا تاریخ ، ارضیات اور فلکیات ،وغیرہ۔ قرآن معروف معنوں میں علمی کتاب نہیں ہے۔ مگر قرآن میں مختلف علوم کے بارے میں جزئیاتی اشارے موجود ہیں۔ عالم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان علوم کو بقدرِ ضرورت پڑھے تاکہ وہ قرآن کی علمی تشریح کرسکے۔

قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کو اپنا پیغام دیتا ہے۔ اور پھر حکم دیتا ہے کہ قرآن کا پیغام اس طرح پیش کرو جو ان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو(النساء63:)۔ اس لحاظ سے اس حکم کے توسیعی مفہوم میں وہ تمام علوم شامل ہوجاتے ہیں جو انسان کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ان علوم کا تجزیہ کیے بغیر آدمی قرآن کی باتوں پر یقین نہیں کرسکتا۔

قرآن پر صرف ایمان لانا کافی نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ مومن کے اندر قرآن کی صداقت پر یقین ہو۔ یہ یقین اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب کہ قرآن سے متعلق علوم کا مطالعہ کیا جائے۔ اسی طرح جو لوگ قرآن کے مدعو ہیں، ان کے اندر بھی ایک سوچ ہوتی هے جو پیشگی طور پر ان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ مدعو کے سامنے قرآن کی تعلیم اس طرح پیش کی جائے کہ مدعو کو اس کی صداقت پر یقین ہوجائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالم مدعو کے علوم سے واقفیت حاصل کرے۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion