نیت، بصیرت
اسلام میں نیت کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لیکن صرف نیت کافی نہیں۔ ایک آدمی کے اندر اچھی نیت (good intention) موجود ہو تو وہ بلاشبہ انفرادی زندگی کے اعتبار سےایک کامیاب انسان بن سکتا ہے۔ لیکن جہاں تک اجتماعی زندگی کا سوال ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ایک اور چیز لازمی طور پر ضروری ہے۔ یہ بصیرت (wisdom) ہے۔بصیرت کے بغیر کوئی شخص اجتماعی زندگی کے امتحان میں پورا نہیں اترسکتا۔ خواہ وہ نیت کے اعتبار سے کتنا ہی اچھا انسان ہو۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں ہمیشہ بحران کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اجتماعی زندگی میں وہی شخص کامیاب ہوسکتا ہے جس کے اندر بحران کو مینیج کرنے کی صلاحیت (art of crisis management) پائی جاتی ہو۔ اور یہ صفت صرف اسی شخص کے اند رپائی جاتی ہے جو ایک صاحبِ بصیرت انسان ہو۔
اسلام کے ابتدائی دور میں دونوں قسم کی مثالیں موجود ہیں۔ ایک مثال خالد بن ولید کی ہے۔ وہ اسلامی فوج کے سردار تھے۔ خلیفۂ دوم عمر کے زمانے میں ان کے ساتھ ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو عام انسان کو بہت زیادہ برہم کرسکتا ہے۔ لیکن حضرت خالد بن ولید ایک با بصیرت انسان تھے، اس کو انھوں نے یہ کہہ کر اپنے لیے غیر موثر بنادیا:انی لا اقاتل فی سبیل عمر، ولکن اقاتل فی سبیل رب عمر ۔یعنی میں عمر کے راستے میں نہیں لڑتا، بلکہ میں عمر کے رب کے راستے میں لڑتا ہوں۔
دوسری تقابلی مثال سعد بن عبادہ کی ہے۔ سعد بن عبادہ مدینے کے قبیلۂ خزرج کے سردار تھے۔ہجرت سے پہلے بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انھوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ ہجرت کے بعد وہ رسول اللہ کے ساتھی بن گیے۔ مدینے میں اسلام جو تیزی سے پھیلا، اس میں ان کا بڑا ہاتھ تھا۔ رسول اللہ کی آخری زندگی تک وہ اسی طرح اپنے حال پر قائم رہے۔ وہ اس وقت بدل گیے، جب کہ رسول اللہ کی وفات کے بعد ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی۔ روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا مستحق وہ انصار کو سمجھتے تھے۔ انھوں نے ابوبکر صدیق کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت نہیں کی۔ اس کے بعد جب دوسرے مہاجر، عمر بن خطاب خلیفہ منتخب ہوئے تب بھی انھوں نے خلیفۂ دوم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی۔ وہ اسی حال پر قائم رہے۔ یہاں تک كه وہ مدینہ میں ایک غیر مطلوب شخص بن گیے۔ اب وہ مدینہ چھوڑ کر شام چلے گیے۔ وہاں ہجرت کے پندرھویں سال ان کی وفات ہوگئی۔
خالد بن ولید اور سعد بن عبادہ دونوں اپنی انفرادی زندگی میں اچھے انسان تھے۔ لیکن دونوں کا دو مختلف انجام ہوا۔ خالد بن ولید کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے بحران کا وقت تھا۔ لیکن انھوں نے اپنی بصیرت سے اس بحران کو مینیج کرلیا۔ اس طرح ان کا اختلاف ان کی زندگی میں غیر موثر بن کر رہ گیا۔ اس کے برعکس سعد بن عبادہ کو مرکزی قیادت سے اختلاف ہوا۔ یہ ان کے لیے ایک بحران کا وقت تھا۔ وہ اس بحران کو مینیج نہ کرسکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ صحابہ کی جماعت سے کٹ گیے۔
انفرادی زندگی کے مقابلے میں اجتماعی زندگی کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ انفرادی زندگی میں دوسروں سے اختلاف کی نوبت نہیں آتی۔ لیکن اجتماعی زندگی میں ہمیشہ اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اختلاف ایک امتحان (test) ہوتا ہے۔ جس آدمی کے اندر بصیرت (wisdom) کی صلاحیت موجود ہو، وہ اپنی بصیرت سے اس کی حقیقت کو سمجھ لے گا، اور اس کا منفی اثر قبول کرنے سے بچ جائے گا، لیکن جس انسان کے اندر بصیرت (wisdom) کا مادہ موجود نہ ہو، وہ اس بحران (crisis) کو مینیج کرنے میں ناکام رہے گا۔
مینیج نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس آدمی کے ساتھ جو واقعہ پیش آتا ہے ، اس کو وہ غلط معنی میں لے لیتا ہے۔ ایک واقعہ جو فطری اسباب کے تحت پیش آیا، اس کے بارے میں وہ یہ سمجھے گا کہ میری حق تلفی ہوئی، میری قربانیوں کو نظر انداز کردیا گیا۔ مجھ پر دوسروں کو ترجیح دی گئی۔ میں سازش کا شکار ہوا، میری خدمات کونظر انداز کردیا گیا، وغیرہ۔ اس قسم کے خیالات اس کے ذہن پر چھاجائیں گے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت نہ ہوگی کہ وہ معاملے کو صحیح زاویے سے دیکھے، اور اس کے برے اثر سے اپنے آپ کو بچا لے۔
