جنت کی مجلسیں
جنت صرف عیش کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ اعلی درجے کی سرگرمیوں کی جگہ ہے۔ انھیں میں سے ایک اعلی سرگرمی وہ ہے جس کو جنت کی مجلسیں کہا جاسکتا ہے۔ اس جنتی سرگرمی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (15:47)ا ور ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے، سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، تختوں پر آمنے سامنے۔ دوسرے مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں: أُولَئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ فَوَاكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (37:41-44)ان کے لیے معلوم رزق ہوگا۔ میوے، اور وہ نہایت عزت سے ہوں گے۔آرام کے باغوں میں ۔تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا ماحول انتہائی درجے کا پر راحت ماحول ہوگا۔ وہاں جنت میں داخل ہونے والے لوگ آمنے سامنے (face to face) بیٹھیں گے، اور اعلی معرفت کے ماحول میں باہم گفتگو کریں گے۔ یہ باہم گفتگو کرنے والے لوگ وہ ہوں گے، جو دنیا کی زندگی میں اعلی معرفت حاصل کرچکے ہوں۔ جو ذہنی ارتقا (intellectual development) کے بلند درجے پر ہوں گے۔ ان میں سے ہر شخص اعلی درجے کی مجلس میں شرکت کرنے کے لیے کامل معنوں میں تیار شخص (prepared personality) کی حیثیت رکھتا ہوگا۔ یہ جنتی زندگی کا ایک نہایت اعلی تجربہ ہوگا، جو اہل جنت کو حاصل ہوگا۔
جنت کی ان مجالس کا موضوع کلام کیا ہوگا۔ وہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِين(39:75)۔اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اﷲ کے لیے ہے، سارےعالم کا خداوند۔یہ آیت جنت کے بارے میں ہے۔ حمد الٰہی یا معرفت خداوندی بلاشبہ ایسا موضوع ہے جو لامحدود حد تک وسیع ہے۔ اس موضوع کا تعلق کبھی نہ ختم ہونے والے کلمات اللہ اور آلاء اللہ سے ہے۔
