سوچنے کا ماڈل
قرآن کی ایک آیت یہ ہے:قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَى سَبِيلًا (17:84)۔ اس آیت میں شاکلہ سے مراد سوچنے کا ماڈل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خود اپنے ذہن کے مطابق اپنی سوچ کا ماڈل بنا لیتے ہیں۔ حالاں کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ رب العالمین کے ماڈل کو جانیں اور اس کے مطابق سوچیں اور رائے قائم کریں۔
اس آیت کو موجودہ زمانے پر منطبق کیجیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا سوچنے کا ماڈل میڈیا کی بنیاد پر بنا ہے۔ میڈیا ایک بزنس ہے۔ میڈیا کا کام خبروں کو فروخت (sell)کرنا ہے۔ چوں کہ عام طور پر لوگ منفی خبروں کو زیادہ دلچسپی کے ساتھ سنتے اور پڑھتے ہیں۔ اس لیے میڈیا عملاً منفی خبروں کا میڈیا بن گیا ہے۔ مسلمان روزانہ اسی قسم کی خبروں کو سنتے اور پڑھتے ہیں اور انھیں خبروں کا چرچا کرتے ہیں۔ اس لیے ان کے سوچنے کا ماڈل وہی بن گیا ہے جو میڈیا کا ماڈل ہے۔
یہ ماڈل رب العالمین کے نزدیک بلاشبہ قابلِ رد ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسلمان ربانی ماڈل کے مطابق سوچیں۔ ربانی ماڈل، قرآن کے مطابق مبنی بر امن (peace)ماڈل ہے۔ یعنی چیزوں کو مثبت انداز میں دیکھنا اور امن کے مطابق اپنے عمل کا منصوبہ بنانا۔ مگر عملاً موجودہ زمانے کے مسلمان اس سے تقریباخالی ہیں۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے لیے صحیح آغاز یہ ہے کہ وہ اپنے سوچنے کے ماڈل کو بدلیں۔ وہ چیزوں کو منفی نظر سے سوچنے کا طریقہ ختم کریں۔ وہ منفی چیزوں میں بھی مثبت پہلو دریافت کریں۔ بظاہر ناموافق باتوں کو بھی وہ موافق زاویۂ نظر سے دیکھیں۔ نفرت ، شکایت، احتجاج ، سازش، جیسے الفاظ کو وہ اپنی ڈکشنری سے نکال دیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوگا، مسلمانوں کو اللہ کی نصرت ملنے والی نہیں۔ کیوں کہ اللہ کی نصرت ان لوگوں پر آتی ہے جو شاکلۂ خویش کے بجائے شاکلۂ رب پر اپنی زندگی کو قائم کریں۔
