غلط سوچ

عبد اللہ ابن مسعود کا ایک قول طبرانی نے المعجم الکبیر میں نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں:عن عبد الله، قال:  إن من أكبر الذنب أن يقول الرجل لأخيه:اتق الله، فيقول: عليك نفسك أنت تأمرني  (المعجم الکبیر، حدیث نمبر8587)۔یعنی یہ ایک بہت بڑا گناہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی سے یہ کہے :اللہ سے ڈرو، تو وہ جواب میں کہے:تم اپنی فکر کرو،تم مجھ کو نصیحت کروگے۔یہ جواب صحیح ذہن کی نمائندگی نہیں۔ صحیح ذہن یہ ہے کہ آدمی کو جب نصیحت کی جائے تو وہ سوچ میں پڑجائے۔اور اپنی اصلاح کی فکر کرنے لگے۔ نصیحت کرنے والا خواہ کوئی بھی ہو، لیکن نصیحت کو ہمیشہ نصیحت کے اعتبار سے لینا چاہیے۔ اس اعتبار سے نہیں کہ کرنے والا کون ہے۔

 صحابی کے اس قو ل کو توسیعی معنی میں لیا جائے تو وہ اس ذہن پر بھی منطبق ہوتا ہے جو لوگوں کے درمیان اپنے اور غیر کی تفریق میں جیتے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ اگر ان سے یہ کہا جائے کہ مسلمانوں کا یہ فریضہ ہے کہ وہ عام انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچائیں۔ تو وہ جواب دیں گے کہ پہلے مسلمانوں کی اصلاح کرلیجیے، اس کے بعد غیر مسلموں میں تبلیغ کیجیے گا۔

اسلامی تعلیم کے مطابق، اس قسم کی تفریق درست نہیں۔ ہر مسلمان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جن لوگوں کے درمیان رہتا ہے، ان کو وہ ہر موقعہ پر اللہ کا پیغام پہنچائے۔ خواہ یہ لوگ مسلم ہوں یا غیرمسلم۔یہ پیغام رسانی انسان کے ساتھ خیرخواہی کا تقاضا ہے۔ اور خیر خواہی کے معاملے میں اس قسم کی تفریق درست نہیں۔

پیغام رسانی کی یہ ذمہ داری ہر مسلمان کے اندر انسان دوستی (human-friendly) كامزاج بناتي ہے۔ انسان کی ہمدردی کے لیے اس کا یہ جذبہ ہر حال میں ظاہر ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے اور غیر کی تفریق بے حسی کی علامت ہے۔ ایمان آدمی کو حساس انسان بناتا ہے۔ اور حساس انسان اس قسم کی تفریق کا تحمل نہیں کرسکتا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion