سوال و جواب

سوال

2015 سے میں ماه نامه الرساله كا قاري هوں۔ آپ كي كتابيں بالخصوص پيغمبر انقلاب، غير ملكي سفر نامے، وغيره كا مطالعه كرچكا هوں۔ پوسٹ گريجويشن ميں تاريخ خصوصي مضمون هے۔ ايم اے كے دوران آپ كے مضمون تاريخِ انساني كے مطالعے سے تاريخ كے متعلق مستفيد هوا۔ عالمي منظر نامے سے واقفيت ركھنے کے لیے Indian Express پڑھتا هوں۔ انساني تاريخ كے مختلف مراحل كو ذهن ميں ركھ كر اس نتيجے پر پهنچا هوں كه آپ كا مشن صلح حديبيه پر اتفاق، صبر وضبط كا فارمولا، هي انساني زندگي اور اس كي بقاء اور ارتقاء كے لئے لازم هيں۔اس دور انساني ميں جس ميں آپ اور هم جي رهے هيں، آپ حالات كي سنگيني سے زياده واقف هيں۔ ايسے وقت ميں جب كه لوگ اسلام كے نام پر، اسلام كو اس طرح پيش كررهے هيں جو اسلام كي تعليمات كے منافي هيں،صلح حديبيه ماڈل كو سامنے ركھ كر مسلمانوں كو كيا كرنا چاهئے۔ صبر وضبط اپني جگه ، ان كي غلط فهمي رفع كرنے كے لئے كس راستے كا انتخاب كيا جائے۔(محمد اسماعيل اشفاق احمد، مسلم پوره، مالے گاؤں)

جواب

ہمارا لٹریچر پورا کا پورا اسی سوال کا جواب ہے۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھیں ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہنامہ الرسالہ (اردو)، اور اسپرٹ آف اسلام (انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالات رفع ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔

اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر ردعمل (reaction) کی نفسیات پیدا کرتا ہے۔  ردعمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے۔ اور نفرت کی نفسیات آخرکار لوگوں کو تشدد تک پہنچادیتی ہے۔ لوگوں کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا نہ ہوں تب بھی وہ منفعل تشدد (passive violence)کا شکار ہوکر رہ جاتے ہیں ۔اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔

سوال

ميں الرساله كا مستقل قاري هوں۔ يهاں چند سوالوں كي وضاحت مطلوب هے، براهِ كرم رهنمائي فرمائيں۔

1۔  آپ نے اعتدال كے موضوع پر كئي مضامين لكھے هيں، مگر يه باهم متضاد معلوم هوتےهيں۔ آپ نے اپني كتاب ’’دين انسانيت‘‘ ميں لكھا هے كه:’’معتدل انداز كا تعلق زندگي كےتمام معاملات سے هے۔ هر معاملے ميں آدمي كو افراط اور تفريط سے بچنا هے۔ هر معاملے ميں، دوانتهاؤں كے درميان بين بين والي صورت اختيار كرنا هے‘‘(صفحه 125)۔ تاهم الرساله كے حاليه شماروںميں ، آپ اس كے برعكس لكھ رهے هيں۔ اب آپ فرمارهے هيں كه’’اعتدال‘‘ كا تعلق تمام معاملات سے نهيں، بلكه صرف عملي معاملات سے هے۔(الرساله، جولائي 2014، ص 41، اكتوبر، ص 40، ستمبر 2015 ص 21)۔ مزيد يه كه آپ نے حاليه شمارے ميں، اعتدال كا تقابل ’’حق وضلال‘‘ سے كيا هے، جب كه اعتدال كے مقابلے ميں هميشه افراط وتفريط كا لفظ استعمال هوتا هے۔ اس كي كيا وجه هے؟

2۔ آپ كي كتابوںميں دعوت پر سب سےزياده زور ديا گيا هے۔ سوال يه هے كه دعوت كے علاوه، ايك مومن پر، حقوق الله اور حقوق العباد كے تحت، دين كے دوسرے جو تقاضے هيں، دين ميں اُن كي اهميت كيا هے؟ مثلاًنماز، زكوة، حج، والدين كي خدمت، گھر والوں، پڑوسيوں اور دوسرے انسانوں كي نسبت سے عائدهونے والے حقوق وفرائض، وغيره۔

3۔ حديث ميں ’’عزل‘‘ كے بارے ميں آيا هے، كيا يه جائز هے۔ اِس كے متعلق آپ كي رائےكيا هے۔(محمد نسيم خاں، لكھنؤ)

جواب

(1) میری پہلی عبارت میں آپ ’’تمام معاملات‘‘کے ساتھ’’عملی‘‘کا اضافہ کر دیں تو آپ کا شبہ اپنے آپ ختم ہوجائے گا۔ اعتدال کے بارے میں مَیں نے جو بات لکھی ہے، اس کو آپ نے غور سے نہیں پڑھا۔ آپ دوبارہ اس کو غور سے پڑھیے تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ میرا اصل نقطہ نظر یہ ہے کہ اعتدال کا تعلق فکری امور سے نہیںہے، بلکہ عملی معاملات سے ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ، بلکہ عملا تمام علماء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ رہا۔ اگرچہ علماء اس مسئلے کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

(2) میری تحریروں میں دعوت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے فرائض کی نفی نہیں، بلکہ مطلوب صورت کی اہمیت کو بتانا ہے۔ ہماری کتابوں میں دوسرے پہلووں پر بھی لکھا گیا ہے۔ البتہ موقعہ کے لحاظ سے دعوت الی اللہ کے فریضہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آپ ہماری تفسیرِ قرآن ، تذکیر القرآن پڑھیں اس میں آپ کو ہماری ساری باتیں مل جائیں گی۔

(3) عزل کے بارے میں میرا مسلک وہی ہے جو صحيح البخاری کی روایت سے ثابت ہے۔  اس کو آپ پڑھ لیں۔ اس معاملہ میں الگ سے میری کوئی رائے نہیں ہے۔ البخاری کے ان الفاظ پر آپ غور کیجیے:عن جابر رضي الله عنه، قال:كنا نعزل والقرآن ينزل۔(حدیث نمبر 2508)   ان الفاظ پر غور کرکے آپ خود اپنے سوال کا جواب پاسکتے ہیں۔

سوال

مولانا آپ نے 1 نومبر 2015 کی سنڈے تقریر میں جو فرمایا اس میں سے چند باتوں پر مزید وضاحت مطلوب ہے:

1 ۔ پولٹکس کے ساتھ جب مذہب مل جائے تو تقدس آجاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔

2 ۔دین اور سیاست میں جدائی اور دین پرسنل چوائس ہے اور سیاست سماجی قبولیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، میں فرق کیا ہے۔

3۔ سیاست میں دین کو کب داخلہ ملے گا، کیا اس وقت جب کہ لوگ اس کے لیے تیار ہوں۔( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو)

جواب

1 ۔  پولٹکس جب سیکولر ذہن کے ساتھ چلائی جائے تو وہ ایک دنیوی معاملہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر سیکولر پولٹکس میںفیصلے کی بنیاد ہمیشہ عقل ہوتی ہے۔ایسے لوگ ہمیشہ اپنی سرگرمیوں کو نتیجے کے اعتبار سے جانچتے ہیں۔ ان کی سرگرمی اگر مثبت نتیجہ پیدا کرے تو وه اس پر قائم رہیں گے، اور اگر ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ دکھائي ديں تو وہ ان پر از سر نو غور کریں گے۔ وہ اپنی سرگرمیوں کی نئی منصوبہ بندی کريں گے۔ اس کے برعکس، مذہبی ذہن کے لو گ جب پولٹکس اختیار کریں تو اپنے مزاج کی بنا پر ان کے لیے سارا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس بنا پر ان کی پولٹکس،دوسرے مذہبی اعمال کی طر ح مقدس بن جاتی ہے۔ وہ اس پر نظر ثانی نہیں کرتے، خواہ اسی راستے میں وہ تباہ ہوکر رہ جائیں۔ وہ ہلاکت کو شہادت کا درجہ دے کر ہر حال میں اس پر قائم رہتے ہیں۔

2 ۔  سیاست ہمیشہ ایک حریف (rival) پیدا کرتی ہے۔ سیاست سسٹم میں بدلاؤ کا نشانہ دیتی ہے۔ اس بنا پر اول دن سے ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا سیاست پر عملی قبضہ ہے، ان سے ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ سے بچنے کی عملی صورت یہ ہے کہ سیاست کو عقیدہ کا مسئلہ نہ بنا یا جائے، بلکہ اس کو سماجی انتخاب کا مسئلہ بنادیا جائے۔

3 ۔  مذہب میں عملی سیاست کا داخلہ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ سماجی حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جیسے سماجی حالات ویسی عملی سیاست۔ ایک حدیث کا مطالعہ کرکے اس حقیقت کو سمجھا جاسکتا ہے:عن عائشةقالت:إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء:لا تشربوا الخمر، لقالوا:لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل:لا تزنوا، لقالوا:لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمكة على محمد صلى الله عليه وسلم وإني لجارية ألعب:{بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ} [54:46] وما نزلت سورة البقرة والنساء إلا وأنا عنده۔(صحیح البخاری، حديث نمبر4993

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion