خوش قسمت انسان
ایک حدیث میں سات ایسے انسانوں کا ذکر ہے، جو قیامت کے دن اللہ کے سائے میںجگہ پائیں گے۔ ان میں سے ایک انسان کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے:وَرجل قلبہ معلّق فی المساجدِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر660)یعنی وہ انسان جس کا دل مسجد میں اٹکا ہوا ہو۔
اس حدیث میں مسجد کا لفظ علامتی معنی میں ہے۔ حقیقت میں اس سے مراد وہ انسان ہے جس نے اللہ کے دین کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنا لیا ہو۔ وہ اللہ رب العالمین کے بارے میں سوچے۔ وہ اپنی زندگی کے ہر موقعے پر اللہ کو یاد کرے۔ اللہ کی عبادت کرنا، اس کا محبوب مشغلہ بن گیا ہو۔ اس کا بولنا، اس کا کرنا، سب اللہ کے رنگ میں رنگ گیا ہو۔ اللہ کے دین کی دعوت کو اس نے اپنی زندگی کا واحد مشن بنا لیا ہو۔ وہ اللہ کے لیے جینے والا، اور اللہ کے لیے مرنے والا بن جائے۔ اس کا چلنا بھی اللہ کے لیے ہو، اور اس کا رکنا بھی اللہ کےلیے ہو۔
رجل قلبہ معلق فی المساجد میں جو بات کہی گئي ہے، وہ حدیث میں بظاہر مسجد کی نسبت سے کہی گئی ہے، لیکن وہ ایک عام انسانی صفت ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کی کوئی ’’مسجد‘‘ہوتی ہے۔ اس کا دل ہر لمحہ اپنی اس مسجد سے اٹکا ہوا ہوتا ہے۔ وہ کسی لمحہ اپنی اس مسجد سے غافل نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان کا ایک مقصود (goal) ہوتا ہے۔ وہ اپنی پوری توانائی کو خرچ کرکے اس مقصود کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ اسی کے لیے سوچتا ہے، اور وہ اسی کے حصول کے لیے منصوبہ بناتا ہے۔ وہ ہر لمحہ یہ جائزہ لیتا رہتا ہے کہ اس نے اپنے مقصود کے لیے کیا کیا، اور کیا نہیں کیا۔ وہ اپنے اسی مقصود کو لے کر سوتا ہے، اور اپنے اسی مقصود کو لے کر جاگتا ہے۔
یہی معاملہ ایک دین دار آدمی کا ہے۔ دین دار آدمی کا کنسرن (concern) صرف ایک ہوتا ہے، اور وہ ہے اللہ کی رضا حاصل کرنا، اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو ابدی جنت کا مستحق بنانا۔ اس سے کم کوئی چیز آدمی کو دین دار نہیں بناتی۔
