استقامت کا حکم
ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے :عن سفيان بن عبد الله الثقفي، قال: قلت: يا رسول الله حدثني بأمر أعتصم به، قال: قل ربي الله ثم استقم، قلت:يا رسول الله ما أخوف ما تخاف علي، فأخذ بلسان نفسه، ثم قال:هذا (سنن الترمذی، حدیث نمبر2410) سفیان بن عبد اللہ الثقفی روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، مجھے ایک ایسی بات بتائیےجس کو میں مضبوطی کے ساتھ پکڑ لوں۔ آپ نے فرمایاکہ کہو کہ اللہ میرا رب ہے، اور پھر اس پر قائم ہوجاؤ۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول مجھے سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرنا چاہیےجس کا آپ مجھ پر خوف کھاتے۔آپ نے اپنی زبان پکڑی، پھر فرمایا کہ اس سے۔
رسول اللہ صلي الله عليه وسلم نے پوچھنے والے کو قول پر استقامت کاحکم دیا۔ قول پر استقامت کیا ہے۔وہ یہ ہے کہ زندگی میں بار بار ایسے معاملات پیش آئیں گے جو تم کو اپنے قول سے ہٹانے والے ہوں، مگر تم اس سے غیر متاثر رہ کر اپنے قول پر جمے رہنا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ تم ہر ایسی بات کو اللہ کے حوالے کردو، اور اپنے قول کی طرف لوٹ جاؤ۔
قول سے ہٹنے کا سبب زیادہ تر زبان کی بنا پر ہوتا ہے۔ اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص زبان سے ایسی بات کہہ دیتا ہے جو سننے والے کو بری معلوم ہوتی ہے۔ اس کو غصہ آجاتا ہے، وہ بدلہ لینے کے درپے ہوجاتا هے، وہ چاہنے لگتا ہے کہ کہنے والے کو نقصان پہنچا کراس کو سبق سکھائے۔ ایسے تمام مواقع پر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ زبان کے شر سے اپنے آپ کو بچائے۔ زبان کا غلط استعمال بات کو بڑھاتا ہے، اور زبان کا صحیح استعمال بات کو ختم کردیتا ہے۔
زندگی میں اکثر بحران (crisis) زبان کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کرائسس منیجمنٹ (crisis management)کا آرٹ سیکھے۔ وہ بحران کو مینیج (manage) کرکے اس کو ابتدا ہی میں ختم کردے۔
