یہود کی مثال

قرآن میں یہود کی تاریخ کا ایک نصیحت آمیز واقعہ سورۂ الاسراء کی ابتدائی چند آیتوںمیں بیان کیا گیا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے: اور ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب میں بتادیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں خرابی کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ پھر جب ان میں سے پہلا وعدہ آیا تو ہم نے تم پر اپنے بندے بھیجے، نہایت زور والے۔ وہ گھروں میں گھس پڑے اور وعدہ پورا ہو کر رہا۔ پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹا دی اور مال اور اولاد سے تمہاری مدد کی اور تم کو زیادہ بڑی جماعت بنا دیا۔ اگر تم اچھا کام کرو گے تو تم اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر تم برا کرو گے تب بھی اپنے لیے برا کرو گے۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے اور بندے بھیجے کہ وہ تمہارے چہرے کو بگاڑ دیں اور مسجد میں گھس جائیں جس طرح وہ اس میں پہلی بار گھسے تھے اور جس چیز پر ان کا زور چلے اس کو برباد کردیں (17:4-7

قرآن کی ان آیتوں میں یہود کے بگاڑ کا ذکر ہے۔ لیکن اس کے بعد یہ نہیں فرمایا کہ یہود کے اندر ہم نے مصلحین پیدا کیے۔ بلکہ یہ فرمایا کہ ان کے خلاف ہم نےاپنے زور آور بندے بھیجے، جنھوں نے ان کو تباہ و برباد کیا۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ یہود (بنی اسرائیل) کی تاریخ میں دوبار یہ واقعہ پیش آیا۔ ان کو ایک بار 586قبل مسیح میں بابل ونینوا کے بادشاہ نبوکد نضر (Nebuchadnezzar)کے ہاتھوں تباہی کا سامنا کرنا پڑا، اور دوسری بار 70عیسوی رومی بادشاہ رومی بادشاہ ٹائٹس (Titus) کے زمانہ میں۔ ان دونوں نے قوم یہود کو فلسطین کے علاقے سے نکال کر بیرونی علاقے میں جلاوطن کردیا(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، تفسیر ماجدی،سورۂ بنی اسرائیل، آیت 4)۔یہی وہ لوگ ہیں، جن کو تاریخ میں ڈائسپورا (diaspora) کہا جاتا ہے ۔

بنی اسرائیل کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، وہ بظاہرسزا کا معاملہ تھا، لیکن اصلاً اس کا مقصد یہ تھا کہ قدیم زمانے میں یہودی نسلوں میں جو زوال آگیا تھا، اس کو توڑا جائے،اور یہود کو دوبارہ یہ موقع دیا جائے کہ وہ اپنی نسلوں کے اندر بیداری لائیں، اور ان کو احیا (revival) کا موقع مل سکے۔یہ خدائی قانون بشمول امت مسلمہ دنیا کی تمام قوموں کے لیے یکساں طور پر لاگو ہے۔

 ہار ش ٹریٹمنٹ (harsh treatment) کا یہ عمل یہود کے ساتھ کئی سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ 1948   میں ان کو دوبارہ یہ موقع دیا گیا کہ وہ فلسطین کے علاقے میں لوٹ کر آئیں، اور اپنی نئی زندگی شروع کریں۔ بد قسمتی سےبنو اسرائیل کی یہ واپسی مثبت واپسی نہ بن سکی۔ اس واپسی کے ساتھ یہودیوں اور عربوں کے درمیان ایک خونی تصادم شروع ہوگیا، اور اس طرح وہ امکان واقعہ نہ بن سکا، جو اس معاملہ میں چھپا ہوا تھا۔

اگر مسلمان یہود کو سیاسی دشمن سمجھنے کے بجائے مدعو سمجھتے، اور خیرخواہی کے ساتھ ان کے درمیان خدائی پیغام پہنچانے کا کام کرتے تو عین ممکن تھا کہ مسلمانوں کے ساتھ جزئی یا کلی طور پر وہی واقعہ پیش آتا جو اس آیت میں مذکور ہے:

 وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ ۔ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (41:33-34)۔ یعنی، اس سے بہتر کس کی بات ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اور بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں، تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی، وہ ایسا ہوگیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔

اس کے برخلاف ،یہ سوچ لینا کہ اب قوم یہود کے لیے سچائی کے راستے پر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے، ایک غیر پیغمبرانہ سوچ ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم انسانوں کے راہِ راست پر آنے کے حوالے سے ہمیشہ پر امید رہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عہدِ رسالت سے لے کر اب تک ہردور میں یہودیوں نے خدا کے فائنل پیغام کو دریافت کرکے اس کو قبول کیا، اور اب بھی قبول کر رہے ہیں۔ مثلاً آسٹریا کے لیو پولڈ اسد (1900-1992)، اور امریکا کی مارگریٹ جمیلہ (1934-2012)۔ اسی طرح اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہود کے معاملے میں قرآن کی مذکورہ آیت(فصلت، 41:33-34) منطبق (apply)نہیں ہوتی ہے۔

قرآن کے اس حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو امت ِوسط کی حیثیت سےیہ حق نہیں کہ وہ ابدی طور پر یہود کو ملعون سمجھ لیں۔ مسلمانوں کا رویہ یہود کے بارے میں ہمیشہ قابلِ نظر ثانی ہونا چاہیے، نہ کہ نماز روزے کی طرح ابدی حکم۔ 

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion