بڑھاپے کا سبق

قرآن کی مختلف آیتوں میں بڑھاپے کی عمر کا ذکر آیا ہے۔ان میں سے ایک آیت یہ ہے:أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ  (35:37)۔ یعنی کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہ دی کہ جس کو سمجھنا ہو، وہ سمجھ لے۔ اور تمہارے پاس ہوشیار کرنے والا آیا۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑھاپے کی عمر گویا ایک قسم کا فطری جبر (compulsion) ہے۔ انسان پیدا ہونے کے بعد پہلے طاقت کا تجربہ کرتا ہے۔ اس کے بعد اس پر بڑھاپے کا دور آتا ہے۔ اب وہ مجبور ہوتا ہے کہ اپنے ذاتی تجربے کے ذریعے یہ دریافت کرے کہ انسان کے اوپر ایک اور طاقت ہے، جو پہلے جوانی کی عمر عطا کرتا ہے، اس کے بعد اس کو بڑھاپے کی عمر میں مبتلا کردیتا ہے۔

یہ فطری اشارہ ہے کہ انسان اپنی حقیقت کو جانے، اور مین کٹ ٹو سائز (man cut to size) بن کر زندگی گزارے۔ وہ اس بات کو ریلائز (realize)کرے کہ وہ اس دنیا کا خالق نہیں ہے۔ بلکہ ایک پیدا کرنے والے نے اس کوایک منصوبے کے تحت پیدا کیا ہے۔وہ منصوبہ یہ ہے کہ انسان اپنی حقیقتِ واقعی کو دریافت کرے۔ 

  ایک انسان جب اپنی حقیقت واقعی کو دریافت کرلیتا ہے تو وہ متواضع انسان بن جاتا ہے۔ متواضع انسان کوایک حدیث رسول میں عبدِ شکور کہا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں:

سمعتُ المُغِيرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَقُولُ: إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُومُ لِيُصَلِّيَ حَتَّى تَرِمُ قَدَمَاهُ - أَوْ سَاقَاهُ - فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ: أَفَلاَ أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا(صحیح البخاری، حدیث نمبر 1130)۔ یعنی، حضرت مغیرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے، یہاں تک کہ آپ کے دونوں قدموں یا پنڈلیوں میں ورم آجاتا۔ آپ سےکہا گیا (کہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟) تو آپ نے جواب دیا:کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion