آیات کا ظہور
حدیث میں دجال کو تاریخ کا عظیم ترین فتنہ بتایا گیا ہے۔ دجال کے بارے میں روایتیں حدیث کی تقریباً تمام کتابوں میں آئی ہیں۔ ان روایتوں کے گہرے مطالعے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ دجال کسی فرد واحد کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک دجالی دور کا نام ہے۔ یہ دور غالباً وہی ہے جس کو مغربی تہذیب کا دور کہا جاتا ہے۔ دجال کے لیے جن غیر معمولی طاقتوںکا ذکر ہے، وہ سب تمثیل کے معنی میں ہیں، اور یہ وہی طاقتیں ہیں جو جدید دور میں ٹکنالوجی کی ترقی سے انسان کو حاصل ہوئی ہیں۔
مثلاً حدیث میں آیا ہے :يُنَادى بصَوْتٍ لَهُ يُسْمِعُ بِهِ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ (کنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی وہ ایسی آواز میں پکارے گا، جو مشرق و مغرب کے درمیان سنائی دے گی۔ اس سے مراد واضح طور پر جدید کمیونی کیشن ہے۔ اس کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ آدمی ایک مقام سے بولے، اور اسی وقت تمام دنیا میں اس کی آواز سنی جاسکے۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے:قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا إِسْرَاعُهُ فِي الْأَرْضِ؟ قَالَ: كَالْغَيْثِ اسْتَدْبَرَتْهُ الرِّيحُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937)۔ یعنی، ہم لوگوں نےپوچھا کہ زمین میں اس کی رفتار کیسی ہوگی، آپ نے کہا: جیسے بارش جس کو تیز آندھی اڑا لے جاتی ہو۔ اس سے مراد واضح طور پر ہوائی سفر (air travel)ہے۔
اسی طرح حدیث میں آیا ہے: مَعَهُ جَبَلٌ مِنْ خُبْزٍ، ونَهْرٌ مِنْ مَاءٍ (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر14292)۔ یعنی اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس زمانے میں وسائلِ حیات کا انفجار (explosion) ہوگا۔ اس کے نتیجے میں اسبابِ حیات کی بہت زیادہ فراوانی ہوجائےگی۔ مثلاً دستی زراعت کے بجائے مشینی زراعت کا ممکن ہوجانا، ڈی سالینیشن (desalination) کے ذریعہ سمندر کے پانی کا میٹھے پانی میں تبدیل ہونا، وغیرہ۔
دجال کادور غالباً وہی دور ہے جب کہ آفاق و انفس کی آیات (دلائل) بڑے پیمانے پر ظاہر ہوں گی، اور حق کی اعلیٰ تبیین ممکن ہوجائے گی (فصلت، 41:53) ۔ لیکن عین اسی زمانے میں دجالی ذہن کےلوگ بہت بڑے پیمانے پر غلط تعبیر (misinterpretation) کا کام کریں گے،ا ور ظاہر ہونے والے دلائل کو خالق کا کارنامہ بتانے کے بجائے یہ کریں گے کہ ان کو مخلوق کی طرف منسوب کردیں گے، اور اس طرح حقیقت کے ظہور کامل کے دور میں بھی لوگوں کو غلط تعبیرات میں بھٹکادیں گے۔ غالبا یہی وہ ظاہرہ ہے جس کو حدیث میں فتنہ دہیماء (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4242)کہا گیا ہے، یعنی بڑے اندھیرے (utter darkness) کا دور۔
حقائق کی غلط تعبیر کیا ہوگی۔ وہ یہ ہے کہ علم کے تمام اداروں اور ریسرچ کے تمام شعبوں کو اس طرح منظم کیا جائے گا کہ ان کی تحقیقات انسان کے لیے خدا کی معرفت بننے کے بجائے، خدا کے وجود کا انکار یا اس سے بے خبری کا ذریعہ بن جائیں۔ مثلاً زندگی کیسے وجود میں آئی، حیوان اور انسان کیسے بنے،اس کے بارے میں حیاتیاتی ارتقا (biological evolution) کا نظریہ وضع کیا جائے گا، اور ان کو اتنا زیادہ عام کیا جائے گاکہ ہر تعلیمی ادارہ اور ہر لائبریری میں اسی نظریہ کی گونج سنائی دے گی۔ اسی طرح مادہ (matter) کے اندر مختلف خواص کیوں ہیں، ان کے بارے میں یہ نظریہ وضع کیا گیا کہ یہ سب فطرت کے داخلی قوانین (inherent laws of nature) کا نتیجہ ہے۔ اس قسم کے بے خدا (godless)نظریات کو علم کےمختلف شعبوں کے ذریعہ اتنا زیادہ پھیلایا گیا کہ تقریباً پوری دنیا میں ان نظریات کو شعوری یا غیر شعور طور پر بر حق مان لیا گیا۔
دجال کے بارے میں حدیث میں دو اہم باتیں آئی ہیں۔ ایک یہ کہ ایک رجلِ مومن اس کا کامیاب مقابلہ کرے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر2938) ، دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح، دجال کو قتل کریں گے (سنن الترمذی،حدیث نمبر 2244)۔ یہ بات غالباً دو فرد کی بات نہیں ہے، بلکہ دو گروہ کی بات ہے۔ دجال کے فتنہ کا خاتمہ غالباً دو گروہ کریں گے، ایک غالباً پیروانِ محمد کے منتخب افراد کا گروہ، اور دوسرا غالباً پیروانِ مسیح کے منتخب افراد کا گروہ۔
مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ’’قتل دجال‘‘ یا دجالی فتنہ کے خاتمے کا آغاز عملاً واقع ہو چکا ہے۔ اس معاملے میں مسیحی اہل علم نے بڑے پیمانے پر دجالی فتنے کے علمی مقابلہ کا کام کیا ہے۔ مثلاً دجالی فتنہ کے دوران ایک خطرناک نظریہ پیدا ہوا، جس کو ہیومنزم کہا جاتا ہے۔ ہیومنزم کا خلاصہ ایک شخص نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے― خدا کی سیٹ پر انسان کوبٹھانا
Transfer of seat from God to man.
اس نظریے کی تائید میں سیکولر لوگوں نے بڑی تعداد میں کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب یہ ہے
Man Stands Alone by Julian Huxley (1941)
خدا کے انکار پر جب یہ کتاب چھپی تو اس کے بعد امریکا کے ایک مسیحی سائنس داں نے اس کے جواب میں مدلل کتاب شائع کی۔ وہ کتاب یہ تھی:
Man Does Not Stand Alone by Abraham Cressy Morrison, Fleming H. Revell Company, 1944.
اسی طرح دیگر مسیحی اہل علم نے بھی بڑی تعداد میں کتابیں شائع کی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب وہ ہے، جو چالیس سائنس دانوںکے مضامین پر مشتمل ہے۔ اس کا نام یہ ہے:
The Evidence of God in an Expanding Universe. Edited by John Clover Monsma, Published: 1958.
سائنس کا موضوع کائنات (physical world) کا مطالعہ ہے۔ تقریباً چار سو سال کے مطالعے کے ذریعے سائنس نے جو دنیا دریافت کی ہے، وہ استنباط (inference) کے اصول پر خالق کے وجود کی گواہی دے رہی ہے۔ لیکن غالباً کسی سائنسداں نے کھلے طور پر خدا کے وجود کا اقرار نہیں کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ البرٹ آئن سٹائن(1879-1955) کی طرح ان کا کیس کھلے طورپر خدا کے انکار (atheism)کا کیس نہیں ہے، بلکہ ان کا کیس لا ادری (agnosticism) کا کیس ہے۔کوانٹم فزکس کے نظریے کو اگر اس معاملے پر منطبق کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے :
Probably there is a God.
یہ خالص سائنس کا موقف ہے۔ لیکن جہاں انسان کے وجدان (intuition) کا تعلق ہے۔ اس کی سطح پر خدا کا وجود اتنا ہی یقینی ہے، جتنا کہ انسا ن کا وجود۔ مشہور فرانسیسی فلسفی ڈیکارٹ (René Descartes,1596-1650 ) نے کہا تھا کہ میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں
I think therefore I am. (Discourse on the Method, Introduction, p. 18)
اس اصول کو توسیع دیتے ہوئے یہ کہنا صحیح ہوگا — میرا وجود ہے، اس لیے خدا کا بھی وجود ہے:
I am, therefore God is.
