بامقصد زندگی
ایک بار میری ملاقات ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ہوئی۔ بات چیت کے دوران انھوں نے کہا کہ ہم لوگ تو حیوان کاسب (earning animal) ہیں۔ یعنی پڑھ لکھ کر ڈگری لینا، اور اس کے بعد پیسہ کمانا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے لیے دو اچھے آپشنز (options) ہیں۔ ایک ہے، ون مین، ون مشن (one man, one mission)، اور دوسرا ہے، ون مین، ٹو مشن (one man, two mission) ۔ ان دونوں قسم کی زندگی کو اچھی زندگی کہا جائے گا۔
اصل یہ ہے کہ انسان کا ایک سوچا سمجھا مقصد ہو، اور وہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول میں لگ جائے۔ ایسے انسان کے لیے ایک کام تو یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کے مطابق، کسبِ مال کرے، اور پھر اپنی ضرورت کے مطابق اپنی کمائی کا استعمال کرے۔ ایسے انسان کے لیے دو طریقے ہیں۔ ایک ، یہ ہے کہ وہ اپنا سارا وقت اپنے مقصد کے لیے وقف کردے، اور کمائی کے معاملے کو ثانوی (secondary) بنادے، اور دوسرا یہ ہے کہ وہ اپنے وقت کا آدھا حصہ کمائی میں لگائے، اور آدھا حصہ اس کام میں جس کو اس نے اپنا مقصدِ حیات بنایا ہو۔ یہ دونوں طریقے یکساں طور پر درست طریقے ہیں۔
آدمی ہمیشہ اپنے آپ کو دو چیزوں کے درمیان پاتا ہے۔ ایک، اپنی اور اپنی فیملی کے تقاضے۔ دوسرا، اپنی زندگی کے اصل مقصد کے تقاضے۔ آدمی اگر کسی ایک چیز کی طرف مکمل طور پرجھک جائے، تو وہ اس قابل نہیں رہے گا کہ اپنی زندگی کے دوسرے تقاضے کو پورا کرسکے۔ اس لیے قابلِ عمل بات یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو دو چیزوں کے درمیان بانٹ لے۔ آدھا مقصدی تقاضے کے لیے، اور آدھا مادی ضروریات کے تقاضے کے لیے۔ اس طرح دونوں تقاضے پورے ہوتے رہیں گے، اور وہ بقدرِ ضرورت ایک کامیاب انسان بن سکے گا، یعنی وہ اپنے آپ کو اس اصول پر قائم کرلے، جس کو میں ون مین ٹو مشن (one man two mission)سے تعبیر کرتا ہوں۔
