طریقِ مطالعہ
ایک صاحب نے ہمارے واٹس ایپ پر درج ذیل میسج بھیجا ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ، اسکالرز اور مفسرین کو پڑھنے کے حوالے سے میرا یہ طریقہ ہے کہ میں پڑھتا سب کو ہوں ، یا یوں کہہ لیجیے کہ جس جس کو پڑھنے سننے کا جب جب موقع ملتا ہے اسے پڑھتا سنتا ہوں ، اور مختلف افراد کے زیر مطالعہ افکار کے ساتھ وہ کرتا ہوں جو اس مثال سے واضح ہو جائے گا:جس طرح ایک گائے گھاس کھاتی ہے ، مختلف قسم کا چارہ وغیرہ کھاتی ہے ، پانی پیتی ہے ، اس کے بعد اس کے معدے کا نظام غیر مفید اور غیر ضروری چیزوں کو خارج کردیتا ہے اور صرف مفید اور کارآمد چیزوں کو ہضم کرتا ہے اور پھر اس سب کے نتیجے میں گائے دودھ جیسی عظیم اور مفید چیز نکالتی ہے۔
اسی طرح میں پڑھتا سب کو ہوں، اور جو بات ضروری اور اہم بلکہ قرآن مجید اور سنت ِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مطابق ملے اس کو لے لیتا ہوں، اور باقی باتوں کو چھوڑ دیتا ہوں۔ یعنی میں کسی مصنف یا اسکالر کی کتابوں سے استفادہ ضرور کرتا ہوں لیکن کسی کتاب سے اس حد تک متاثر نہیں ہوا کرتا جس طرح لوگوں کی اکثریت کسی اسکالر سے متاثر ہوتی ہے اور پھر اس کی فالوور بن جاتی ہے۔ میرا یہ طریقِ مطالعہ کس حد تک درست ہے، اس سلسلے میں مجھے آپ کے تبصرے کا انتظار رہے گا ۔ (ایک قاریِ الرسالہ)
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ گائے کا تقابل انسانی رویے سے کرنا درست نہیں۔ گائے مکمل طور پر خدا کے فطری قانون کے مطابق عمل کرتی ہے۔ لیکن انسان اپنے معاملے میں اپنے ارادہ و اختیار کے مطابق عمل کرتا ہے۔
آپ کا جو طریقہ ہے، وہی موجودہ زمانے میں اکثر تعلیم یافتہ لوگوں کا طریقہ ہے۔ یہ طریقہ بظاہر صحیح معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی صحیح طریقہ نہیں ہے۔ اس طریقے کی غلطی یہ ہے کہ آدمی بظاہر یہ کہتا ہے کہ وہ ہر ایک کو پڑھتا ہے، لیکن وہ خود اپنے آپ کو کرائٹیرین(criterion) بنالیتا ہے۔ اس لیے اس طرح کا پڑھنا اپنے آپ کو پڑھنا ہوتا ہے، نہ کہ سب کو پڑھنا۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے آبجیکٹیو انداز میں قرآن و سنت کی روشنی میں یہ جاننے کی کوشش کی جائے کہ خالص قرآن و سنت کے اعتبار سے صحیح طریقہ کیا ہے۔ مثال کے طور پر آپ اپنے طریقے کے مطابق، سیرت کی کوئی کتاب پڑھتے ہیں۔ اس میں آپ کو غزوات کے عنوان سے بہت سے واقعات ملتے ہیں۔ لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ غزوات ہرگز جنگ کے معنی میں نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کی بیشتر تعداد جنگ کو اوائڈ کرنے کے معنی میں تھی۔
فریقِ ثانی نے اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ میں الجھانا چاہا تو آپ نے یہ کوشش کی کہ فریقِ ثانی کی طرف سے ہونے والے جنگی اقدامات کو جھڑپ (skirmishes) میں تبدیل کردیا جائے۔ گویا جھڑپ (skirmish) کے واقعات کو سیرت نگاروں نے غزوات کا نام دیا ہے۔ حالاں کہ وہ پریکٹکل وزڈم کا استعمال کرکے جنگ کو اوائڈ کرنے کی ایک عظیم مثال ہے۔ کیوں کہ رسول اللہ نے جو کیا وہ یہ تھا کہ آپ نے حکیمانہ طریقہ اختیار کرتے ہوئے جنگی اقدام کو جھڑپ میں تبدیل کردیا۔ جیسا کہ خندق کے موقع پر ہوا۔
انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو کسی ماحول میں زندگی گزارتا ہے۔اس ماحول کے زیرِ اثر ہر ایک انسان کا اپنا ایک ذہنی سانچہ (mindset)بن جاتا ہے۔ وہ اپنے اِسی بنے ہوئے ذہن (conditioned mind) کے تحت چیزوں کودیکھتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ اِسی مائنڈ سیٹ کو قرآن میں شاکلہ (17:84) کہاگیا ہے۔ قرآن و سنت کو درست انداز میں سمجھنےکی لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے اِس خودساختہ شاکلہ کو توڑے اور ربانی شاکلے کی روشنی میں وہ دین کا مطالعہ کرے۔ اس کے بعد یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے مطالعے سے درست نتیجہ اخذ کرسکے۔
