شیطان کا مقابلہ
قرآن میں آدم اور ابلیس کا قصہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ بتایا گیاہے۔اس کے مطابق ، یہ ہوا کہ شیطان آغاز ہی میں انسان کا دشمن بن گیا ۔اس نے اعلان کیا کہ میں انسان کو بہکاؤں گااور اس کو جنت کے راستے سے دور کردوں گا ۔اللہ تعالیٰ نے شیطان کو آزادی دے دی ،لیکن اسی کے ساتھ یہ فرمایا :إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ (15:42)۔یعنی، جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا کوئی زور نہیں چلے گا۔قرآن کی اس آیت میں سلطان کا مطلب کیا ہے۔ اس سلسلے میں مفسرین کی رائے کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے إِنَّ عِبَادِي ٱلْمُؤْمِنِينَ لَا قُوَّةَ عَلَيْهِمْ فِي إِضْلَلِهِمْ (صفوۃ التفاسیر للصابونی، جلد2، صفحہ 101)۔یعنی، تم کو یہ قدرت حاصل نہیں ہوگی کہ تم میرے مومن بندوں کو گمراہ کر سکو۔
یہا ں یہ سوال ہےکہ مومن بندے کس طرح شیطان کے وسوسہ اور تزئین سے محفوظ رہیں گے۔یہ کوئی پرا سرار معاملہ نہیں ۔اس کا تعلق دراصل اہل ایمان کی ذہنی بیداری سے ہے۔ اسی ذہنی بیداری (intellectual awakening)کا نتیجہ ہو تا ہےکہ وہ شیطان کے وسوسہ اور تزئین کو فوراً پہچان لیتاہےاور اس کو ڈی فیوزکر کے اس کو بے اثر بنا دیتاہے۔قرآن میں ہے کہ جو لوگ تقویٰ والے ہیں جب کبھی شیطان کے اثر سے کوئی برا خیال انھیں چھو جاتا ہے تو وہ فوراً چونک پڑتے ہیں اور پھر اسی وقت ان کو سوجھ آجاتی ہے (7:201)۔
ڈی فیوز(defuse) کا لفظ اس معاملے کو اچھی طرح واضح کرتا ہے۔ موجود ہ زمانے میں جو بم بنا ئے جا تے ہیں۔ ان کے اندر دھماکہ خیز مادے کے علاوہ ایک باریک تار لگا ہو تا ہے۔ جس کو فیوز (fuse)کہتےہیں۔ اس فیوز میں آگ لگنے سے بم میں دھماکہ ہوتا ہے۔ پولس جب کسی بم کو ناکارہ بنانا چاہتی ہےتو وہ یہ کرتی ہےکہ مخصوص ٹکنیک کے ذریعے اس کے فیوز کو نکال دیتی ہے۔ اس کے بعد بم نا کارہ ہوجا تا ہےاور پھٹنے کے قابل نہیں رہتا۔ اس عمل کو ڈی فیوز کرنا کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو مومن فکری اعتبار سے کرتاہے۔ وہ فکری سطح پر شیطان کے بم کو ڈی فیوز کردیتا ہے۔ اس طرح وہ شیطان کے وسوسہ اور تزئین سے محفوظ رہتا ہے۔
