لکھنے کا کلچر

مولانا سید سلیمان ندوی (1884-1953)جب ندوۃ العلماء (لکھنؤ) میں استاد تھے، توان سےان کے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کب لکھنا چاہیے۔ اس پر انھوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا: اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے، اس کے بعد لکھو۔ یہ ایک صاحب تصنیف عالم کا نہایت کارآمدمشورہ ہے۔ لیکن یہ مطالعہ کسی موضوع پر علمی انداز میں ہونا چاہیے۔ مثلاً اگر آپ یہ کریں کہ صبح سے شام تک اردو اخبارات پڑھیں، اور پھر مضمون لکھنے بیٹھ جائیں تو ایسے مضمون میں کوئی گہرائی نہیں ہوگی۔ سرسر ی مطالعہ سے سرسری مضمون لکھنا آئے گا، اور گہرے مطالعہ سے گہرے مضمون لکھنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔

گہرا مطالعہ کرنے سے آدمی کے اندر گہری سوچ پیدا ہوتی ہے۔ وہ اس قابل ہوجاتا ہے کہ زیادہ گہرے انداز میں معاملات پر رائے قائم کرے۔ اس کی رائےمیں میچوریٹی آجاتی ہے۔ معروف انگریزی رائٹرفرانسس بیکن(Francis Bacon, 1561-1626) کا مشہور قول ہے کہ بعض کتابیں صرف ورق گردانی کے لیےہوتی ہیں، کچھ سرسری مطالعے کے لیے ہوتی ہیں، اور چند ایک کا گہرا مطالعہ کیا جاتاہے

Some books are to be tasted, others to be swallowed, and some few to be chewed and digested. (The Essays, Oxford, 1890,  p. 342)

ایک کتاب اور دوسری کتاب میں یہ فرق اسی لیے پیدا ہوتا ہے کہ کوئی لکھنے والا کتاب کو گہرے مطالعے کے بعد لکھتا ہے، اور کوئی سرسری مطالعے کے بعد کتاب چھاپ دیتا ہے۔ مطالعے کے اسی فرق کی وجہ سے کتاب میں فرق پیداہوجاتا ہے۔ کسی نے کہا ہے کہ اگر کتاب لکھو تو ایسی کتاب لکھو کہ جس کو پڑھا جائے۔ جوکتاب بازار میںجاکر ردّی میں فروخت ہوجائے، ایسی کتاب لکھنے کا کیا فائدہ۔ موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس، اور پھرای ریڈرز، وغیرہ کی ایجاد کے بعد مطالعہ کرنابہت آسان ہوگیا ہے۔ 

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion