دجال کا فتنہ

حدیث کی اکثر کتابوں میں آیا ہے کہ قیامت سے پہلے ایک شخص ظاہر ہوگا۔ اس کے لیے حدیث میں دجال کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ تیس ایسے لوگ آئیں گے جو دجال کذّاب ہوں گے۔ انگریزی میں دجال کو امپوسٹر (imposter) کہہ سکتے ہیں۔ دجال کا لفظ اگر چہ قرآن میں نہیں آیا ہے، لیکن معنی کے اعتبار سے وہ قرآن میں موجود ہے۔ شیطان کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ تزیین کرتا ہے۔اس سلسلہ میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے:

قالَ رَبِّ بِما أَغْوَيْتَنِي ‌لَأُزَيِّنَنَّ ‌لَهُمْ ‌فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ( 15:39)۔ یعنی، ابلیس نے کہا، اے میرے رب، جیسا تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے اسی طرح میں زمین میں ان کے لیے مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کر دوں گا۔

He said, "My Lord, since You have let me go astray. I shall make the path of error seem alluring to them on the earth and shall mislead them all.

 اس لحاظ سے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ دجال قرآن کی زبان میں مزیّن اکبر ہوگا،یعنی سب سے بڑا فریبی۔ دجال، امت مسلمہ کا ایک فرد ہوگا، لیکن وہ امت کے بعد کے زمانے میں آئے گا۔ گویا کہ تاریخی طور پر اس زمانے میں جب کہ امت زوال کا شکار ہوچکی ہوگی۔ زوال کے زمانے میں کسی امت کے اندر جو نفسیات بنتی ہے، وہ شکست خوردگی کی نفسیات (defeatist mentality) ہوتی ہے۔ یہ زمانہ وہ ہوتا ہے جب کہ امت اس قابل نہیں رہتی کہ وہ عملاً اپنی شکست کو فتح میں تبدیل کرسکے۔ اس لیے امت کے اندر ایسے افراد ابھرتے ہیں، جو امت کو فرضی فخر (false pride) کی غذا دیں، جن کی لفظی باتوں سے متاثر ہوکر امت یہ سمجھے کہ وہ اس کے مخالفین کے مقابلے میں ڈیفنڈر (defender) کا رول ادا کررہے ہیں۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے دورِ زوال میں جو شخص ڈیفنڈر کی حیثیت سے ابھرے گا۔ وہ حقیقت کے اعتبار سےڈیفنڈر کا رول ادا کرنے والا نہ ہوگا، بلکہ وہ دجل (to deceive) کےلبادہ میں ظاہر ہوگا۔ یعنی امت دھوکہ کھاکر اس کو اپنا ڈیفنڈر سمجھ لے گی۔حالاں کہ وہ ڈیفنڈر نہیں، بلکہ فریبی (deceiver)ہوگا۔

احایث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں امت کا ایک شخص ظاہر ہوگا، جو دجال کو قتل کرے گا(سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4321)۔ غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہ قتل جسمانی قتل نہ ہوگا، بلکہ وہ نظریاتی قتل ہوگا۔ یعنی اس معنی میں کہ وہ شخص دلائل کے ذریعہ اکسپوز (expose) کرکے بتائے گا کہ یہ شخص ڈیفنڈر نہیں ہے، بلکہ وہ امپوسٹر ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ دجال ایک نہیں ہوگا، بلکہ بڑے دجال سے پہلےتیس دجال ظاہر ہوں گے (سنن ابو داؤد،حدیث نمبر 4333)۔ اس کا مطلب غالبا ًیہ ہے کہ دجال ایک انفرادی کردار نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک تسلسل کا نقطۂ انتہا (culmination) ہوگا۔ دجال سے پہلے مختلف قسم کے افراد اٹھیں گے، جو گویا بڑے دجال کے لیے ابتدائی زمین تیار کریںگے۔ مثلاً پہلے مناظر (debator) قسم کے افراد ابھریں گے، اس کے بعد ایسے افراد ابھریں گے جن کو ملت اپنے دشمنوں کے مقابلے میں ڈیفنڈر کا درجہ دے گی، آخر میں بڑا دجال ظاہر ہوگا۔ جس کو لوگ اپنا نجات دہندہ (saviour) سمجھیں گے۔

 بڑے دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ ذاتی اعتبار سے غیر معمولی شخصیت کا مالک ہوگا۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے زمانے میں ایسے حالات اور وسائل پیدا ہوں گے ، جو اس کو موقع دیں گے کہ وہ عملاً بڑے دجال کا درجہ حاصل کرلے۔ مثلاً یہ کہ اس کے زمانے میں عالمی کمیونی کیشن وجود میں آجائے گا۔جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: يُنَادى ‌بصَوْتٍ ‌لَهُ يُسْمِعُ بِهِ مَا بَيْنَ الْخَافِقَيْنِ(کنز العمال، حدیث نمبر 39709)۔ یعنی دجال ایک ایسی آواز سے پکارے گا، جو مشرق اور مغرب کے دونوں سروں کے  درمیان سنائی دے گی۔

مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دجال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عام انسان جیسا نہیں ہوگا، وہ کوئی ہمالیائی شخصیت ہوگا ۔ بلکہ اس سے مراد امت کے زوال کی ایک حالت ہے۔ اپنے زوال کی بنا پر دجال کی باتیں امت کی نفسیات کو ایڈریس کریں گی۔ دجال کی مقبولیت اس بنا پر نہیں ہوگی کہ وہ جسمانی اعتبار سےکوئی غیر معمولی انسان ہوگا۔ بلکہ اس کا سبب امت کی زوال یافتہ نفسیات ہوگی۔ جو اپنی بگڑی ہوئی نفسیات کی بنا پر فرضی طور پر دجال کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لے گی۔

ایک حدیث میں آیا ہے :لَا ‌تَقُومُ ‌السَّاعَةُ حَتَّى ‌لَا ‌يُقَالَ ‌فِي ‌الْأَرْضِ: اللهُ اللهُ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 148)۔ یعنی قیامت اس وقت آئےگی، جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہیں رہے گا۔ اس سے مراد دنیا کی عام قومیں نہیں ہیں بلکہ اس سے مراد امت مسلمہ ہے۔ مزید یہ کہ اللہ اللہ نہ کہنے کا مطلب لفظی ذکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ امت مسلمہ کا اللہ رب العالمین سے عارفانہ تعلق ختم ہو جائے گا، اور غیر اللہ ان کے لیے اصل کنسرن (sole concern)کی حیثیت اختیار کر لے گا۔

قرآن کے مطابق، انسان سے سب سے زیادہ جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ ہے کہ انسان اللہ رب العالمین کو اپنا سول کنسرن (sole concern) بنائے۔ اس کو حبّ شدید کا تعلق صرف اللہ رب العالمین سے ہو۔ مگرہر زمانے میں اور آج بھی انسان کی یہ کمزوری رہی ہے کہ وہ اللہ رب العالمین کو غیر مشہود پا کر کسی نہ کسی غیر خدا کواللہ رب العالمین کے مقام پر بٹھاتا رہا ہے۔ کسی نہ کسی غیر خدا کو وہ اپنا سول کنسرن (sole concern) بناتا رہا ہے۔ مثلاً:

The transfer of the divine seat from God to Nature.

The transfer of the divine seat from God to King.

The transfer of the divine seat from God to Holymen.

The transfer of the divine seat from God to Dollar.

The transfer of the divine seat from God to Self.

The transfer of the divine seat from God to Children.

مسلم دنیا میںاللہ سے عارفانہ تعلق ختم ہونے کا حادثہ اچانک پیش نہیں آیا ہے، یہ حادثہ ایک لمبے پراسس کے تحت پیش آیا ہے۔ اسلام کے دورِ اول میں ایشیا اور افریقہ میں جب مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں قائم نہیں ہوئی تھیں، اس وقت مسلمانوں کا اعتماد صرف اللہ پر ہوتا تھا۔ اس کے بعد جب مسلمانوں کی سلطنتیں قائم ہوگئیں تو مسلمانوں کا اعتماد اللہ پر کمزور ہوگیا۔ اب وہ مسلم سلطنتوں پر شعوری یا غیرشعوری طور پر اعتماد کرنے لگے۔ یعنی ٹرانسفر آف ڈیوائن سیٹ فرام اللہ ٹو مسلم پولٹکل پاور

The transfer of divine seat from God to Muslim political power.

اس کے بعد انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب مغربی قوموں کو عروج حاصل ہوا، اور مغل ایمپائر اور ٹرکش ایمپائر جیسی مسلم سلطنتیں ختم ہوگئیں۔ تو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں ایک سیاسی خلا پیدا ہوگیا۔ اس سیاسی خلا کی بنا پر مسلمانوں کے اندرخوف کی نفسیات پیدا ہوگئی۔ اب ان کا کنسرن  اپنی ملت پر قرار پایا۔

اس سیاسی خلا کو پُر کرنے کے لیے مسلمان زیادہ سے زیادہ اپنی ملت کی طرف مائل ہونے لگے۔ ان کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ذہن بنا کہ اب ان کے لیے بائنڈنگ فورس صرف ان کی اپنی ملت ہے۔ اس طرح مسلمان نفسیاتی اعتبار سے دوسری قوموں سے دور اور مسلمانوں سے قریب آنے لگے۔اس کے نتیجے میں فطری طور پر مسلمانوں کا یہ مزاج بنا کہ مسلم اور غیرمسلم کے بارے میں جو آدمی مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت کرے، وہ ان کا اپنا آدمی ہے، اور جو مسلمانوں کی یک طرفہ حمایت نہ کرے، وہ عملاً ان کے حریف کا ساتھی ہے۔ اس طرح مسلمانوں کے لیے غیرشعوری طور پر عملاً مسلم قوم اصل کنسرن (sole concern)بن گئی۔

اسی قسم کی فضا ہے جس میں دجال ابھرے گا۔ وہ مسلمانوں کی اس نفسیات کو فیڈ کرے گا۔ وہ تمام مسائل میں یک طرفہ طور پر غیر مسلم قوموں کو اور غیر مسلم میڈیا کو ذمہ دار ٹھہرائے گا۔ اور مسلمانوں کو یک طرفہ طور پر بے قصور ظاہر کرے گا۔ اس بنا پر مسلمان یہ سمجھیں گے کہ وہی ان کا اپنا آدمی ہے۔ وہی ان کے مفاد کی حفاظت کرنے والا ہے۔ یہ مزاج بڑھ کر یہاں تک پہنچے گا کہ وہ دجا ل کو اپنا نجات دہندہ سمجھ لیں گے۔

جب مسلمانوں میں اللہ پر اعتماد موجود ہو تو ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ خوف کی حالت ان کے تعلق باللہ میں اضافہ کرنے والا بن جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے:

الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (3:173)۔ یعنی جن سے لوگوں نے کہا کہ دشمن نے تمہارے خلاف بڑی طاقت جمع کرلی ہے اس سے ڈرو، لیکن اس چیز نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کردیا اور وہ بولے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔

دجال کے فعل کو دجل ( دھوکا اور فریب) کیوں کہا گیا ۔ کیوں کہ وہ اسلام کے نام پر مسلمانوں کو اسلام سے دور کرے گا۔ وہ اسلام کے نام پر غیر اسلام کو فروغ دے گا۔ دجال کی پوری سرگرمیوں کا مرکز یہ ہو گا کہ وہ مسلمانوں کے مفروضہ دشمنوں کو دین کا لیبل لگا کر عوامی زبان میں للکارے گا۔ وہ اسٹیج کے میدان میں بظاہر مفروضہ دشمنوں کو شکست دے گا۔ غلط طور پر مسلمانوںکو یہ باور کرائے گاکہ ہم نے تمھارے دشمنوں کو زیر کردیا ہے۔ مگر دجال کا یہ سارا معاملہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام دشمنی کا معاملہ ہوگا۔ کیوں کہ اس کی باتیں مسلمانوںکی توجہ کو اللہ کے بجائے ، غیر اللہ کی طرف مائل کردے گی۔

مسلمانوں کی صحیح رہنمائی کرنے والا وہ ہے، جس کی رہنمائی سے مسلمانوں میں اللہ پر یقین بڑھے۔ ان کے اندر اللہ کا تقویٰ پیدا ہو، وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے والے بن جائیں۔ ان کو سب سے زیادہ شوق جنت کا ہو۔ ان کا سب سے زیادہ اہتمام آخرت کے لیے ہوجائے۔ وہ اپنی زندگی میں   وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللہ (9:18) کے مصداق بن جائیں، یعنی وہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے۔

 مگر برعکس طور پر ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آئے گا کہ مثلاً وہ دجال کی منفی باتوں سے دھوکہ میں آکر دوسری قوموں سے نفرت کرنے لگیں گے۔ دوسری قوموں کو وہ اپنا دشمن اور سازشی سمجھنے لگیں گے۔ وہ غلط طور پر یہ فرض کرلیں گے کہ ان کے ہر مسئلے کا ذمہ دار دوسری قومیں ہیں۔اس طرح وہ اسلام کے نام پر غیر اسلامی سرگرمیوں میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اس کے نتیجے میں ان کے اندر انسانوں کو خدا کے منصوبۂ تخلیق سے آگاہ کرنے کا ذہن بالکل ختم ہوجائے گا۔ کیوں کہ یہ اسپرٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر عام انسان کے لیے خیرخواہی کا جذبہ ہو۔ جب کہ دجال مسلمانوں کے اندر سے انسانی خیرخواہی کا کلی خاتمہ کردے گا۔  

_______________

احیائے اسلام کا مطلب ہے، تبدیلی زمانہ کے اعتبار سے اسلام کا

مطالعہ کرکے اس کو سمجھنا، اور اپلائی کرنا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion