مثال کے بغیر
بینکنگ (banking)کی اصطلاح میں ایک لفظ ہے ڈَڈ چیک (dud cheque)۔ یعنی ایسا چیک جس کے حق میں بینک میں ضروری رقم (cash)موجود نہ ہو۔ ایسی ہی مثال اس مضمون یا کتاب کی ہے، جس میں بڑی بڑی باتیں بیانیہ انداز میں ہوں، مگر ان باتوں کے حق میں کوئی ثابت شدہ دلیل موجود نہ ہو۔
مثال کے بغیر تحریر کا یہ انداز قدیم دور میں عام تھا۔ جب سائنس کا زمانہ آیا، تو لوگوںکو معلوم ہوا کہ متعین مثال کے بغیر کوئی تقریر یا تحریر اتنی ہی بے قیمت ہے، جتنا کہ بینک کی اصطلاح میں ڈَڈ چیک (dud cheque)۔ مثلاً آپ کہیں کہ شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی عالم ادب کے آفتاب و ماہتاب تھے، یا محمد اقبال اور محمد علی جناح برصغیر کی مسلم سیاست میں عہد ساز مفکر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تو ایسا بیان علمی اعتبار سے ڈڈ چیک کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیوں کہ ان بیانات میں جو بات کہی گئی ہے، وہ بیانیہ انداز میں ہے، دلیل کے انداز میں نہیں ۔
جو لوگ اس طرح کے بیان کی کمزوری کو نہ جانتے ہوں، ان سے میں کہوں گا کہ وہ ایک کتاب کے صرف ایک باب کو پڑھ لیں۔ یہاں کتاب کام نام اور اس باب کا نام لکھا جاتا ہے:
The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West, (Chapter: The Death of Metaphor) J. Murray, 1965, pp. 132.
جیسا کہ معلوم ہے کہ بینک کسی ڈڈ چیک پر لکھے ہوئے اماؤنٹ (amount)پر کوئی ادائیگی نہیں کرتا، جب تک اس چیک کے حق میں بینک میں ضروری رقم موجود نہ ہو۔ اسی طرح ایسا مضمون جو دعوی کی زبان میں ہو، لیکن اس میں کوئی مثال نہ دی گئی ہو، ایسے مضمون کو پڑھنے سے قاری کو کوئی ٹیک اوے (takeaway)نہیں ملتا ہے۔ ایسا مضمون صرف ڈڈ چیک کی مانند ہے۔ اس میں نہ لکھنے والے کے لیے کچھ ہوتا ہے، اور نہ پڑھنے والے کے لیے کچھ ۔ ایسا مضمون لکھنا اور پڑھنا، دونوں صرف وقت کا ضیاع ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
