اجتہاد کیا ہے

اجتہاد کیا ہے۔ اجتہاد یہ ہے — کسی حکم شرعی پر عمل کرنے میں جب حالات کی تبدیلی کی بنا پر فرق واقع ہوجائے، تو اس وقت حکم کو ظاہری صورت کے اعتبار سے دیکھنے کے بجائےحکم کو ری ڈیفائن کرنا تاکہ اسپرٹ پوری طرح باقی رہے،لیکن فارم کو اس طرح بدلا جائے کہ وہ مطابقِ حال ہو جائے۔

اس کی ایک رہنما مثال پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور کا ایک واقعہ ہے۔ آپ نےایک بار مدینہ سے صحابہ کی ایک جماعت کو بنو قریظہ کی طرف بھیجا۔ بنو قریظہ ایک یہودی قبیلہ (Jewish tribe)تھا۔یہ قبیلہ مدینہ سے جنوب کی جانب آباد تھا۔ اس واقعے کا ذکر روایتوں میں آیا ہے، اس کا متعلق جز یہ ہے: لما انصرف المشرکون عَن الخندق وَرَجَعَ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - فَدَخَلَ بیت عَائِشَة أتاہ جبریل فوقف عند موضع الجنائز فَقَالَ:عذیرک مِن محارب! فخرج إِلَیْہِ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ -[فزعا فَقَالَ:إن اللہ یأمرک أن تسیر إلى بنی قریظة فإنی عامد إلیہم فمزلزل بہم حصونہم. فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - علیا. رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ. فدفع إِلَیْہِ لواءہ وبعث بلالا] فنادى فِی النَّاسُ إِنَّ رَسُول اللَّہِ - صَلَّى اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - یأمرکم ألا تصلوا العصر إلا فِی بنی قریظة (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، 2/57)۔ بعض روایتوں میں یہ اضافہ ہے : فَأَدْرَکَ بَعْضَہُمُ العَصْرُ فِی الطَّرِیقِ، فَقَالَ بَعْضُہُمْ: لاَ نُصَلِّی حَتَّى نَأْتِیَہَا، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: بَلْ نُصَلِّی، لَمْ یُرَدْ مِنَّا ذَلِکَ، فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْہُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 946)۔ان میں جن لوگوں نے نماز پڑھی ان لوگوں نے یہ کہا :لم یرد رسول اللہ ترک الصلاة، إنما أراد تعجیل السیر (الفصول فی السیرة، أبو الفداء ابن کثیر ، 1/171)۔

ان روایتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ نے صحابہ کی ایک جماعت کو غزوۂ خندق کے بعد بنوقریظہ کی طرف بھیجا، اور بھیجتے ہوئے آپ نے تاکید کے ساتھ یہ کہا کہ تم لوگ عصر کی نماز بنو قریظہ کی بستی میں پہنچ کر ہی ادا کرنا۔ مگر بنو قریظہ کی بستی تک پہنچنے سے پہلے عصر کی نماز کا وقت آگیا۔ یہاں تک کہ ایسا لگنے لگا کہ بنو قریظہ تک پہنچنے سے پہلے عصر کا وقت ختم ہوجائے گا۔ اس لیے کچھ لوگوں نے بنوقریظہ تک پہنچنے سے پہلے ہی عصر کی نماز پڑھ لی۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ نے کسی کے خلاف کچھ نہیں کہا۔ نماز پڑھنے والے صحابہ نے کہا: رسول اللہ کی مراد نماز ترک کرنا نہیں تھا،بلکہ آپ کی مراد تیزی کے ساتھ سفر کرنا تھا۔

فَذُکِرَ لِلنَّبِیِّ صَلَّى اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ یُعَنِّفْ وَاحِدًا مِنْہُمْ (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو آپ نے کسی کے خلاف کچھ نہیں کہا)۔رسول اللہ کےاس عمل سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ آپ نے جو کچھ کیا، اس کا مفہوم یہ تھا کہ تم دونوں درست ہو کہ تم میں سے ایک گروہ نے حکم کی لفظی پیروی کی، اور تم میں سے دوسرے گروہ نے حکم کی اجتہادی پیروی کی ہے۔

تجدیدی کام

مشہور حنفی فقیہ زین الدین ابن نجیم (926-970ھ) نے اپنی کتاب الْأَشْبَاہُ وَالنَّظَائِر میں لکھا ہے:قَالَ بَعْضُ الْمَشَایِخِ:الْعُلُومُ ثَلَاثَةٌ:عِلْمٌ نَضِجَ وَمَا احْتَرَقَ؛ وَہُوَ عِلْمُ النَّحْوِ، وَعِلْمُ الْأُصُولِ. وَعِلْمٌ لَا نَضِجَ وَلَا احْتَرَقَ؛ وَہُوَ عِلْمُ الْبَیَانِ وَالتَّفْسِیرِ. وَعِلْمٌ نَضِجَ وَاحْتَرَقَ؛ وَہُوَ عِلْمُ الْفِقْہِ وَالْحَدِیثِ( الْأَشْبَاہُ وَالنَّظَائِرُ عَلَى مَذْہَبِ أَبِیْ حَنِیْفَةَ النُّعْمَانِ لابن نجیم المصری ،دار الکتب العلمیة، بیروت ، 1999 ،صفحہ 330)۔ یعنی بعض مشائخ نے کہا ہے کہ علم تین ہیں، ایک وہ علم، جو نضج کو پہنچ گیا، مگرفنا نہیں ہوا۔ یہ نحو اور اصول کا علم ہے۔ دوسرا وہ علم ہے، جو نہ نضج کو پہنچا، اور نہ فنا ہوا۔ یہ بیان اور تفسیر کا علم ہے۔ تیسرا وہ علم جو نضج کو پہنچ گیا، اور فنا ہوگیا۔ یہ فقہ اور حدیث کا علم ہے۔ یہ بات شافعی فقیہ بدر الدین محمد بن عبد اللہ الزرکشی (وفات 794ھ) نے بھی اپنی کتاب میں لکھا ہے(المنثور فی القواعد الفقہیة ، وزارة الأوقاف الکویتیة، 1985، جلد 1، صفحہ 72) ۔

نضج کا مطلب ہے پختگی کی حد کو پہنچ جانا (fully developed)۔ راقم الحروف کا اپنے مطالعے کے مطابق، یہ خیال ہے کہ تمام وہ علوم جو اسلامی علوم کہے جاتے ہیں، انطباق کے اعتبار سے ان کے دو درجے ہیں — روایتی انطباق (traditional application)، عصری انطباق (contemporary application) ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ روایتی اعتبار سے تمام علوم پر اتنا کام ہوا ہے کہ وہ نضج کے درجے تک پہنچ گئے ہیں۔ لیکن دورِ سائنس، جو روایتی دور سے بالکل مختلف ہے، اس دور کے اعتبار سے یہ ضرورت ابھی باقی ہے کہ تمام علوم کو دورِ جدید کے معیار پر دوبارہ مدون کیا جائے۔ اس دوسرے پہلو سے تمام علوم ابھی تک غیر نضج کی حالت میں ہیں۔ غالباً کوئی بھی علم نضج کے درجے تک نہیں پہنچا۔

مثلاً عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ فقہ کا علم نضج کے درجے تک پہنچ چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فقہ اس معاملےمیں مستثنیٰ (exception) نہیں۔ مثال کے طور پرکئی عمل ایسے ہیں،جن کے بارے میں فقہاء یہ کہتے ہیں کہ یقتل حدا(بطور حد قتل کیا جائے گا)۔جیسے ترک صلاۃ، ارتداد، شتم رسول، وغیرہ ۔ اسی طرح فقہا نے دنیا کو دار الاسلام اور دارالحرب کے خانوں میں تقسیم کررکھا ہے، وغیرہ۔

اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس قسم کے فتاویٰ زمانی تقاضے کے تحت بنے ہیں، جو موجودہ زمانے میں غیر متعلق (irrelevant) ہوچکے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ خود علما کے عمومی مسلک کے مطابق اس قسم کے فتاوى پر نظر ثانی کی جائے۔ علما کے اس مسلک کی نمائندگی کرتے ہوئے ابن القیم (1292-1350ء)نے اپنی کتاب إعلام الموقعین عن رب العالمین میں ایک مستقل باب لکھا ہے، اس باب کا عنوان یہ ہے: فَصْلٌ فِی تَغْیِیرِالْفَتْوَى،وَاخْتِلَافِہَا بِحَسَبِ تَغَیُّرِ الْأَزْمِنَةِ وَالْأَمْکِنَةِ وَالْأَحْوَالِ وَالنِّیَّاتِ وَالْعَوَائِدِ (فصل :زمانہ، مقامات، حالات، نیتوں اور ضروریات کے بدل جانے کی بنیاد پرفتوی کی تبدیلی، اور ان میں فرق)۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion