حالات کی رعایت

مسلمانوں میں عام طو رپر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمیں دو چیزوں کی پیروی کرتے ہوئے اپنا کام کرنا چاہیے، اور وہ ہے قرآن اور سنت۔ مگر عملی اعتبار سےیہ مکمل بات نہیں۔ بلاشبہ مسلمان کے لیے قرآن و سنت واحد ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں،لیکن اسی کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ مسلمان وقت کے تقاضے کو سمجھیں، اور وقت کے تقاضوں کا پورا لحاظ رکھتے ہوئے اپنی دینی پلاننگ انجام دیں۔

مثلاً جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس سفر کے لیے آپ نے ایک مشرک کو اپنے سفر کا رہنما بنایا۔سیرت کی کتابوں میں اس کا نام عبد اللہ بن اُرَیقِط یا أَرْقَط (سیرت ابن ہشام،جلد1، صفحہ488) بتایا گیا ہے۔ یہ ایک طریقے کی بات تھی، جو قرآن میں پہلے سے لکھا ہوا موجود نہ تھا، وہ حالات کا تقاضا تھا۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حالات کے تقاضے کی رعایت کرنا، کام کی درستگی کا ذریعہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس تیسرے عمل ، یعنی حالات کےتقاضے کو سمجھیں، ورنہ وہ اپنی منصوبہ بندی میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔

حالات کے تقاضے کو سمجھنا، اور اس کی رعایت کرنا، منصوبہ بندی کو کامیاب کرتا ہے۔ یہ اس وقت ممکن ہے، جب کہ انسان کھلے ذہن کے ساتھ حالات کو سمجھنے کی کوشش کرے، اور بغیر کسی ریزرویشن کے حالات کے مطابق اپنے کام کو آگے بڑھائے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں نے اس راز کو نہیں سمجھا کہ موجودہ زمانہ جدید ٹکنالوجی کا زمانہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ جدید تقاضوں کو سمجھیں، اور اس کو اپنی تعمیر میں استعمال کریں۔

پیغمبر ِ اسلام کی سنت سے یہ ثابت ہوتاہے کہ آپ نے ایک طرف وحی کی پیروی کی، اور دوسری طرف حالات کے تقاضے کو سمجھ کر ہمیشہ حکمت پر مبنی پلاننگ کی۔ آپ نے ہمیشہ ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنایا۔ آپ ہمیشہ دوسروں کےلیے ناصح (خیرخواہ) بنے رہے۔ آپ نے اس حکمت کو اتنا زیادہ اختیار کیا کہ آپ نے آخری حد تک خیر خواہی کا حق ادا کردیا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion