دعوتی حکمت

ہر زمانے میں کام کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں مختلف مقامات پر اصنام (idols)ہوا کرتےتھے۔ لوگ ان اصنام کے نام پر سفر کیا کرتے تھے۔ اس طرح عرب میں ایک قسم کا سیاحت کلچر (tourist culture) رائج ہوگیا تھا۔ رسول اور اصحابِ رسول نے اس سیاحت کلچر کو بڑے پیمانے پر دعوتی مقصد کے لیے استعمال کیا۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ تھوڑے وقت میں دین توحید کا پیغام سارے عرب میں پھیل گیا۔

موجودہ زمانے میں ایک نیا کلچر رائج ہوا ہے، جس کو لیڈیز فرسٹ (ladies first) کہا جاتا ہے۔ اس کلچر کے تحت ایسا ہوا ہے کہ اجتماعی مواقع پر عورتوں کو ترجیح (preference) دی جاتی ہے، ان کو پہلے موقع دیا جاتا ہے۔ یہ کلچر دعوت کے کام کے لیے بہت مفید ہے۔ چنانچہ ہمارے ساتھی جب قرآن یا لٹریچر پھیلانے کے لیے کہیں جاتے ہیں، اور وہ دیکھتے ہیں کہ وہاںلوگوں کی تعدادبہت زیادہ ہے، تو خواتین آگے بڑھ کر دعوتی کام میں حصہ لیتی ہیں۔تمام لوگ بہت عزت کے ساتھ ترجمۂ قرآن اور تعارفِ اسلام پر مشتمل لٹریچر لیتے ہیں۔ اس طرح دعوت کے کام میں بہت آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔

اسی کا نام حکمت ہے۔ جو لوگ دعوتی کام کررہے ہیں، ان کو چاہیے کہ موقع کے لحاظ سے دعوت کے لیے حکمت کا طریقہ اختیار کریں۔ دعوتی حکمت کس طرح دریافت ہوتی ہے، اس کا جواب ایک پرانی مثل میں ملتا ہے: جوئِندہ یابِندہ ، یعنی ڈھونڈنے والا پاتا ہے— ڈھونڈنے والے بنئے،چیزیں آپ کو اپنے آپ مل جائیں گی۔ مطلوب چیزوں کی کوئی فہرست نہیں بنتی۔وہ ہمیشہ اپنے آپ مل جاتی ہیں۔ آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ڈھونڈنے والا بنے۔ اس کے بعد اپنے آپ اس کے اندر جستجو کی اسپرٹ پیدا ہوگی۔ وہ اپنے آپ متلاشی انسان بن جائے گا۔ دعوتی حکمت اختیار کرنے کے لیے کس چیز سے بچنا چاہیے۔ اس کے لیے سب سے ضروری چیز ہے، اپنے آپ کو بھٹکاؤ (distraction) سے بچانا، اوریکسوئی کے ساتھ اپنے مطلوب کی تلاش میں لگے رہنا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion