فاجر کے ذریعے تائید ِ دین
ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح بخاری کے الفاظ یہ ہیں: وَإِنَّ اللَّہَ لَیُؤَیِّدُ ہَذَا الدِّینَ بِالرَّجُلِ الفَاجِرِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر3062)۔ یعنی بے شک اللہ ضرور اس دین کی تائید فاجر آدمی کے ذریعے کرے گا۔ صحی بخاری کی شرح میں ابن حجر نے رجل کے لفظ کو جنس کے معنی میں لیا ہے (یُحْتَمَلُ أَنْ تَکُونَ لِلْجِنْسِ )فتح الباری، جلد 7، صفحہ 473۔ یعنی رجال (افراد)۔ راقم الحروف کا خیال ہے کہ یہاں رجل سے مراد سیکولر افراد ہیں، یعنی اللہ تعالی اس دین کی تائید سیکولر افراد کے ذریعے کرے گا۔
سیکولر افرادکے ذریعے دین کی تائید کا مطلب کیا ہے۔ غالباً اس کا مطلب یہ ہے کہ سیکولر لوگوں کے درمیان غور و فکر کا کام نان اسٹاپ (non-stop) انداز میں جاری رہتا ہے۔ اگر آپ افکار کی تاریخ دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ مسلم اہلِ علم کے درمیان غور وفکر کا کام نان اسٹاپ انداز میں جاری نہیں تھا۔ اہلِ دین کے درمیان چوں کہ ڈائکاٹمس تھنکنگ (dichotomous thinking) کا طریقہ ہوتا ہے، یعنی سچائی دو کے درمیان ہے۔ یہ لوگ غلط اور صحیح ، جائز اور ناجائز کے درمیان سوچتے ہیں۔ اس لیے ان کے یہاں بہت جلد بحث ایک حد پر پہنچ کر رک جاتی ہے۔
اس کے برعکس، سیکولر لوگ اختلاف کے بجائے ڈسنٹ (dissent) کو مانتے ہیں۔ اختلاف کے مقابلے میں ڈسنٹ کا لفظ نیوٹرل (neutral) معنی میں ہے، یعنی کسی ایک سائڈ کو لیے بغیر اظہارِ رائے کرنا۔ اختلاف کے ذہن سے سوچنے والے لوگوں کے یہاں کوئی بحث مسلسل طور پر جاری نہیں رہتی۔ اس کے برعکس، ڈسنٹ کے تصور کے ساتھ جو لوگ ڈائلاگ کرتے ہیں، ان کے یہاں ممکن ہوتا ہے کہ ان کے یہاں ڈائلاگ جاری رہے۔ اس طرح سیکولر لوگوں کے یہاں یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی موضوع پر زیادہ سے زیاد ہ بحث و مباحثہ ہو۔ اس مزاج کی وجہ سے سیکولر لوگ دین کے زیادہ پہلوؤں پر اپنی رائے دے سکتے ہیں۔
