فکری آزادی کا فارمولا

سائنس نام ہے نیچرل سائنس کا ۔ نیچرل سائنس ساری کی ساری اس پر مبنی ہے کہ خالق کی بنائی ہوئی دنیا کن اصولوں پر کام کرتی ہے۔ اسی دریافت (discovery)کو جب منظم انداز میں بیان کردیا جائے، تو اسی کا نام سائنس ہے۔ یہ مبنی بر فطرت قوانین عملاًتقریبا تیرہ بلین سال سے موجود تھے، جب کہ بگ بینگ سے کائنات کا آغاز ہوا۔ پھر کیوں ایسا ہوا کہ فطرت کے ان قوانین کو دریافت کرنے میں بہت زیادہ دیر لگی۔ حالاں کہ اس پر غور و فکر بہت پہلے سے جاری ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ فطرت کا علم یقینی طور پر مدون شکل میں موجود نہ تھا۔ بلکہ اس کو ریسرچ کرکے دریافت کرنا تھا۔ دریافت کے اس عمل میں بہت سے دماغ شامل تھے۔ ہر دماغ اپنے مطابق سوچتا تھا، اور اس کو بیان کرتا تھا۔ اس کے باوجود فطرت کا علم آگے نہیں بڑھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مختلف دماغوں کو ایک سوچ پر لانے کے لیے کوئی فارمولا موجود نہ تھا۔

آخر کار مغرب کے اہل دماغ نے اس پر غور کیا۔ انھوں نے پایا کہ علوم فطرت کی دریافت کے لیے فری تھنکنگ (free thinking) بہت ضروری ہے۔ لیکن بے قید فری تھنکنگ کی صورت میں اگریمنٹ (agreement)ہونا عملاً ناممکن بن گیا ہے۔ اس لیے اہل مغرب نے اس معاملے میں ایک قابل عمل اصول دریافت کیا۔ وہ اصول تھاڈسنٹ (dissent) کا اصول۔ ڈسنٹ کا لفظ ایک نیوٹرل ٹرم (neutral term) ہے۔ جب کہ ہر آدمی کی ایک اوپینین (opinion) ہے۔ اوپینین کوصحیح اور غلط کے معیار سے جانچنے کے بجائے مجرد طور پر آزادیٔ فکر (freedom of opinion) کا اصول تسلیم کیا جائے۔ اس سے ایک نیوٹرل ٹرم وضع ہوا، جس کو ڈسنٹ (dissent) کہا جاتا ہے۔ یعنی یہ نظریہ کہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے کے لیے یہ امکان تسلیم کرنا کہ وہ یکساں طور پر برسر حق ہوسکتا ہے۔ اس اصول سے فکر ی عمل مکمل طور پر آزاد ہوگیا۔اب ہر آدمی کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اپنی رائے کو آزادانہ طور پر ظاہر کرے، بغیر اس کے کہ وہ دوسرے کی رائے کو غلط یا صحیح بتائے۔

کہا جاتا ہے کہ مشرقی دنیا میں فکری جمود کا مسئلہ ہے۔ مشرقی فکرکے مفروضہ جمود کا سبب یہ ہے کہ اہل مشرق آزادی فکر کا کوئی قابل عمل (workable)فارمولا دریافت نہ کرسکے۔ مغرب میں فکری عمل بھر پور طور پر جاری ہوا، لیکن مشرق میں فکری عمل تنگ حالت میں پڑا رہا۔ جس چیز کو فکری جمود کہا جاتا ہے، وہ نتیجہ ہےفکری عمل کے ورکیبل (workable) فارمولےکودریافت کرنے میں ناکام رہنا۔ کیوں کہ مشرق میں تعدد فکر(diversity of thought ) کے بجائے توحد فکر (unity of thought)کو اپنایا گیا۔ اہل مشرق چیزوں کو حلال وحرام کے ٹرم میں دیکھتے رہے،جس کی وجہ سے ان کے یہاں فری تھنکنگ عملاً رواج نہ پاسکی۔ہر بار جب ایک شخص نے کوئی فکری فارمولا دریافت کیا، تو دوسرا شخص جوابی ذہن لے کر کھڑا ہوگیا کہ یہ غلط ہے،یہ ناجائز ہے،یہ حرام ہے، وغیرہ۔ مشرق میں کسی کے لیے بھی فری تھنکنگ کو اپناکر جمہور سے الگ رائے اختیار کرنا ممکن نہ تھا۔ چنانچہ ان کے یہاں فکرو تحقیق کا کام تعطل کی حالت میں پڑا رہ گیا۔

مغرب میں فکری آزادی کا ڈیولپمنٹ واقعہ بن گیا، لیکن مشرق میں یہ واقعہ نہیں بن سکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اس معاملے میں اصل رکاوٹ اتھاریٹی کا نظریہ تھا، یعنی باتوں کو ریزن کی بنیاد پر سننے کے بجائے ’’اکابر‘‘کی بنیاد پر سننا۔ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں اتھاریٹی کا تصور چھایا ہوا تھا۔ تاہم مغرب میں سائنس اور چرچ کے ٹکراؤ کے نتیجے میں اتھاریٹی کا تصور کمزورہوا، پھر اس کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد مغرب نے نسبتاً آسانی کے ساتھ ڈسنٹ (dissent) کا نیوٹرل نظریہ اختیار کرلیا۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں پوپ ڈم (popedom) کا مستند تصور ایک مدت کے رواج کے بعد ختم ہوگیا۔ اس کے برعکس، مشرق کا حال یہ ہے کہ وہاں اس قسم کا تصور اعتقادی سطح پر موجود ہے۔ مشرق میں اتھاریٹی کا تصور عقیدے پر مبنی ہے، یعنی ’’اکابر‘‘کی اتھاریٹی۔ اس لیے وہ ختم نہ ہوسکا۔ بلکہ آج تک وہ موجود چلا آرہا ہے۔ یہاں ہر آدمی عملا ًیہ مانتا ہے کہ ’’اکابر‘‘ کی رائے عقیدہ سے تعلق رکھتی ہے، اور عقیدے کے معاملے میں حرام و حلال کو دیکھا جاتا ہے، نہ کہ ریزن کو۔

آزادی فکر اپنے آپ میں تنوع (diversity)چاہتی ہے۔ اس لیے آزادی فکر اور توحدِ فکر دونوں یکجا نہیں ہوسکتے۔ دونوں کو یکجا کرنے کا یہ نتیجہ نکلے گا کہ آزادی فکر کا حصول عملا ًناممکن ہوجائے گا۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس معاملے کے لیے ایک نیوٹرل فارمولا دریافت کیا جائے۔ یعنی ہر ایک یہ کرے کہ وہ اپنے آپ کو صحیح سمجھتے ہوئے دوسرے کو بھی یکساں درجے میں صحیح سمجھنے کا حق دے۔ اسی نیوٹرل آزادی فکر کا نام ہے ڈسنٹ، جو آزادیٔ فکر کا واحد قابل عمل فارمولا ہے۔ آزادی فکر ایک میوچول پراسس (mutual process)ہے،وہ یونی لیٹرل (unilateral)نوعیت کا پراسس نہیں۔

٭٭٭٭٭٭

دور جدید میں جن مثبت باتوں کا آغاز ہوا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اب بذریعہ تلوار اختلاف کو دور کرنے کا زمانہ ختم ہوچکاہے ، اوربذریعہ ڈسینٹ (dissent) اختلاف کو اوائڈ کرنے آغاز ہوا ہے۔قدیم زمانے میں جب اختلاف پیدا ہوتا تھا، تواس کا خاتمہ صرف تلوار کے ذریعے ہوا کرتا تھا۔مثلاً قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا : القتل انفی للقتل (قتل ، قتل کے لیے سب سے بڑا روک ہے)۔

مگر اب یہ فریم ورک (framework)بدل چکا ہے۔ موجودہ دور میں اختلاف کے خاتمے کا سپورٹنگ اسٹرکچر (supporting structure)بدل گیا ہے۔ اب وسیع تباہی کے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) نے دونوں فریقوں کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ دونوں فریق اختلاف کا خاتمہ گفتگو کی میز پر کریں۔اب جو اختلاف ختم ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو’’تلوار‘‘ کی بنیاد پر فیصلےکا بدل مل گیا ہے، اور وہ ہے ڈسنٹ (dissent)۔ انسان کی عقل نے یہ ریلائز کرلیا ہے کہ اختلاف کا خاتمہ ریزن کی سطح پر ہوسکتا ہے۔پہلے زمانے میں حالت یہ تھی کہ اختلاف کی وجہ سے اگر کوئی فریق نہ لڑنا چاہے، تب بھی اس کو جان و مال کی قربانی دینی پڑتی تھی۔ اس کے برعکس، موجودہ دور میں ریزن (reason) کی سطح پر اختلاف کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion