جدید اسلوب کا ایک پہلو
ایک مسلم رائٹر کسی شخص کے بارے میں لکھے گا تو وہ اس طرح لکھے گا کہ شیخ الاسلام تقی الدین احمد بن عبد الحلیم ابن تیمیہ ان ذی علم ہستیوں میں سے ایک تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی تجدید کے لیے پیدا فرمایا۔ دین کے مجددین کی فہرست میں انہیں خصوصی مقام حاصل ہے۔
لیکن سیکولر رائٹر کی زبان یہ نہیں ہوتی۔ سیکولر رائٹر کسی چیز کو اس کے میرٹ پر جانچتا ہے، وہ اس کو اس کے تاریخی پہلو سے دیکھتا ہے۔ اس کا معیار یہ ہوتا ہے کہ آبجیکٹیو (objective) انداز میں جو کچھ ثابت ہو، وہی قابل حوالہ ہے، اور جو چیز آبجیکٹیو انداز میں ثابت نہ ہو، وہ عقیدے کا موضوع ہے، نہ کہ علم کا۔ رائٹر(writer) کے لیے اس اصول کو ملحوظ رکھنا بہت ضروری ہے۔ ورنہ اس کی تحریریں کچھ صاحب عقیدہ لوگوں کے لیے قابل مطالعہ ہوسکتی ہیں، لیکن دوسرے لوگوں کے لیے ان کی کوئی حیثیت نہ ہوگی۔
عام دینی علما اور مستشرق اہل علم کے درمیان یہی فرق ہے۔ مستشرق عالم ایسی باتوں کی بنیاد پر لکھتا ہے، جو دینی مآخذ کے باہر آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ قرار پاتی ہوں۔جو باتیں آزادانہ حوالوں سے ثابت شدہ نہ ہوں، وہ مستشرقین کے لیے قابل حوالہ نہیں۔
خواہ لکھنے کا معاملہ ہو، یا بولنے کا معاملہ ۔ صحیح اسلوب یہ ہے کہ آدمی حقیقت نگاری کا طریقہ اختیار کرے۔ تعریف نگاری اوربلادلیل تنقید، دونوں سے وہ دور رہے۔ اس معاملے میں سب سے زیادہ غلط رواج وہ ہے، جس میں افراد کو فضیلت کی زبان میں بیان کیا جاتاہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ افراد کو اسی نام سے یاد کیا جائے، جو ان کا اصل نام ہے۔ ان کے نام کے ساتھ بڑے بڑے القاب اور فضیلت کا اسلوب ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔ صحابہ کے زمانے میں یہی طریقہ رائج تھا۔ بڑھا چڑھا کر نام لینا، اور نام کے ساتھ فضیلت کے القاب شامل کرنا، یہ سب صحابہ کے زمانے میں نہیں تھا۔ صحیح اسلوب حقیقت نگاری کا اسلو ب ہے، نہ کم ، نہ زیادہ۔
