مسلمانوں کا مسئلہ
مسلمان اور مغربی قوموں کے درمیان طویل مدت تک ایک جنگی سلسلہ چلا۔ یہ جنگی سلسلہ 1096ء شروع ہوا، اورتقریباً دو سو سال تک وقفے وقفے کے ساتھ جاری رہا۔ اس کو تاریخ میں صلیبی جنگ (Crusades)کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ اس میں مسلمانوں کو مکمل فتح ، اور مغربی قوموں کو ذلت آمیز شکست ہوئی۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مسلمان فتح کی خوشی منانے میں مشغول ہوگئے۔ دوسری طرف مسیحی یورپ کے اندر موضوعی انداز (objective way)میں ری پلاننگ (re-planning) کا ذہن پیدا ہوا۔ انھوں نے یہ سوچنا شروع کیاکہ کس طرح میدانِ جنگ کی شکست کو کسی اور میدان میں کامیابی میں تبدیل کیا جاسکتاہے۔ آخر کار انھوں نے یہ دریافت کیا کہ ان کے لیے ایک اور زیادہ بہتر میدان موجود ہے، اور وہ ہے جنگی کروسیڈ س کے بجائے اسپریچول کروسیڈس۔ یعنی فطرت کے قوانین کو دریافت کرکے اس کے ذریعے دوبارہ فتح حاصل کرنا۔
اس منصوبہ بندی میں انھوں نے سو سال سے زیادہ کا عرصہ لگایا۔ یہاں تک کہ مسیحی یورپ نے واقعۃً عمل کا نیا میدان دریافت کرلیا۔ یہ دریافت فطرت کے قوانین (laws of nature) کی دریافت تھی۔ اس دریافت نے مسیحی یورپ کو ایک نئی طاقت دے دی، جس سے اب تک دنیا ناواقف تھی۔ وہ ہے جنگی طاقت کے بجائےفطرت کےقوانین کی تسخیر۔ یہ ایک انوکھی دریافت تھی۔ کیوں کہ اس نے مسیحی یورپ کو یہ موقع دے دیا کہ وہ جنگ کیے بغیر امن کی طاقت سے دنیا پر غلبہ حاصل کرلیں۔ اس دریافت کو عام زبان میں صنعتی انقلاب (industrial revolution) کہا جاتا ہے۔
مسیحی یورپ کی اس دریافت نے مسلمانوں کو بھی ایک عظیم رہنمائی دی ہے، وہ یہ کہ مسلمان مسلح جہاد کے بجائے، پر امن میدان جہاد کو اختیار کریں۔وہ تخریب کے بجائے تعمیر کی طاقت کے ذریعے جینے کا راز دریافت کریں۔ وہ سیاسی غلبہ کی اصطلاح میں سوچنے کے بجائےانسانیت کی تعمیر (development) کی اصطلاح میں سوچیں۔
قدیم زمانہ اور جدید زمانے میں بنیادی فرق یہ ہے کہ قدیم زمانے میں جسمانی طاقت (muscle power) کی اہمیت ہوتی تھی۔ اب ٹکنالوجیکل پاور کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں قتل و قتال کی اہمیت تھی، موجودہ زمانے میں آرگنائزیشن کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں اہمیت یہ تھی کہ بادشاہ کے سر سے اس کا تاج چھین لیا جائے، موجودہ زمانے میں ساری اہمیت سائنس اور تعلیم کی ہوگئی ہے۔ قدیم زمانے میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے محنت اہم ہوا کرتی تھی، موجودہ زمانے میں پلاننگ کی اہمیت زیادہ ہے۔ قدیم زمانے میں خطابت کی اہمیت تھی، موجودہ زمانے میں علم کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں شعر و شاعری اور انشاپردازی کی اہمیت تھی، موجودہ زمانے میں فیکٹ (fact)کی اہمیت ہے۔ قدیم زمانے میں باتوں کا فیصلہ میدانِ جنگ میں ہوا کرتا تھا، موجودہ زمانے میں باتوں کا فیصلہ گفتگو کی میز پر ہوا کرتا ہے۔ قدیم زمانے میں الفاظ کی اہمیت ہوا کرتی تھی، موجودہ زمانے میں ساری اہمیت معانی کی ہوتی ہے۔
آج مسلمانوں کو جو اصل کام کرنا ہے، وہ یہ ہے کہ وہ زمانے کے فرق کو پہچانیں، وہ شاعری، ادب اور خطابت کے دور سے باہر نکلیں، اور علم کے دور میں جینے کا طریقہ سیکھیں۔ وہ ماضی کی فتوحات کو دہرانے کا کلچر چھوڑ دیں، اور حال کے معیار کو سمجھیں، اور اس کے مطابق اپنی تعمیرِ نو کریں۔ وہ اس بات کو جانیں کہ زندگی کا راز قومی فخر میں جینا نہیں ہے، بلکہ ساری دنیا کے ساتھ ترقی کے عمل میں شریک ہونے کا نام زندگی ہے۔ مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ ماضی کے جس دور پر وہ فخر کرتے ہیں، وہ دور اب مکمل طور پر ختم ہوچکاہے۔ وہ جس چیز کو اپنا فخر بنائے ہوئے ہیں، وہ فرضی فخر (false pride) کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلمان آج بھی خلافت کے نام سے ایمپائر کے دور میں جی رہے ہیں ۔ حالاں کہ موجودہ زمانہ نیشن اسٹیٹ کا زمانہ ہے، جس نے ایمپائر کے دور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردیا ہے۔ مسلمانوں کا کیس ایک لفظ میں پیرانوئیا (paranoia) کا کیس ہے۔پیرانوئیا کا مطلب ہے، فریب خوردگی (delusion) میں جینا۔ اس خود فریبی سے نکلنے ہی میں ان کے لیے نئی زندگی کا راز چھپا ہوا ہے۔
