اسلام دورِ جدید میں

دورِ جدید میں مسلمان جن مسائل سے دو چار ہیں، ان میں سے ایک مسئلہ وہ ہے، جس کو جدید تہذیب کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ اپنی پوری شدت کے ساتھ انیسویں صدی اور بیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا، اور اب اس کے اوپر ایک صدی سے زیادہ کا وقت گزرچکاہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اس مسئلہ سے نمٹنا تو درکنار ابھی تک ہم یہ بھی سمجھ نہ سکے کہ یہ مسئلہ کیا ہے، اور اس مسئلہ میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

اسلام کے نقطۂ نظر سے جدید تہذیب کا مسئلہ اصلاً یہ مسئلہ نہیں تھا کہ ماڈرن انسان ایک خاص قسم کا لباس پہنتے ہیں، اور ہم اسے پہنیں یا نہ پہنیں ،یایہ کہ گھروں میں استعمال کے لیے انھوں نے ایک خاص قسم کا فرنیچر تیار کیا ہے،اور ہم اپنے گھروں کو ان سے سجائیں یا نہ سجائیں، وغیرہ۔ یہ سوالات اسلامی یا مذہبی نہیں تھے۔ بلکہ تمدنی اور جغرافی سوالات تھے، اور تمدنی ذوق اور جغرافی حالات کے لحاظ سے ان کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جا سکتا تھا۔ اسلام کی نسبت سے جدید تہذیب کے مسائل حقیقۃ ً صرف دو تھے:

1 - یورپ میں جدید تہذیب اور چرچ کے درمیان تصادم نے غلط طور پر جدید علوم کا رخ لامذہبیت کی طرف کردیا۔ چنانچہ اس تصادم کا یہ نتیجہ ہے (نہ کہ بذاتِ خودجدید تہذیب کا) کہ اس تہذیب کے ذریعے جو علوم پیدا ہورہے ہیں، یا جو معاشرہ بن رہا ہے، وہ مذہب سے بیزاری کی طرف جارہا ہے۔

جدید تہذیب، صنعتی تہذیب کے معنی میں ، وقت کی ایک دریافت تھی، اور یقیناً اس قابل تھی کہ اس سے فائدہ اٹھایا جائے۔ مگر جدید تہذیب نے مغربی قوموں کو جس طرح طاقت ور بنادیا، اور جدید تہذیب اور مسیحیت کے درمیان ٹکراؤ نےجس طرح اس کا رخ الحاد کی طرف کردیا، وہ اسلام کے لیے فکری چیلنج تھا، اور یہاں ضرورت تھی کہ اس کا جواب مہیا کیاجائے۔ بدقسمتی سے اسلامی دنیا بروقت اس کا ثبوت نہ دے سکی کہ وہ ان باتوں کا واضح جواب رکھتی ہے۔اس لیے نہ تو جدیدتہذیب سے صحیح استفادہ ہوسکا، اور نہ اس چیلنج کا صحیح جواب مہیا کیا جاسکا۔

2 -اس سلسلے میں دوسرا کام جو سمجھنے کا تھا، وہ یہ کہ جدید تہذیب کے ذریعے وہ مواقع (opportunities)پیدا ہوئے، جن کو استعمال کرکے عالمی سطح پر دینِ اسلام کی اشاعت کا مطلوب کام انجام دیا جاسکے۔ دینِ اسلام کی اس عالمی اشاعت کے لیے ابتدائی زمانےمیں حالات موافق نہ تھے۔ جدیدتہذیب نے بالواسطہ طور پر ناموافق حالات کو مکمل طور پر موافق بنا دیا ہے۔

اس جدید تہذیب کے نتیجے میں بہت سی مثبت چیزیں پیدا ہوئیں۔ مثلاً جدید تعلیم کا فروغ، حقیقت پسندانہ طرزِ فکر (realistic thinking) کا رواج، فکری جمود کا ٹوٹنا، دنیا میں پہلی بار کامل معنوں میں کھلاپن (openness) کا دور آنا، جدید وسائل کو کسی ریزرویشن کے بغیر رواج دینا، جدید کمیونی کیشن کے نتیجے میں عالمی انٹریکشن (global interaction) کا عمومی پھیلاؤ، دنیا میں پہلی بار یہ ممکن ہوا کہ ہر آدمی کے لیے مواقع کے دروازے مکمل طور پر کھل گئے۔

دنیا میں پرنٹنگ پریس اور مواصلاتی دور (age of communication) وجود میں آیا۔ فطرت (nature)میں چھپے ہوئےموافق اسلام سائنسی حقائق دریافت ہوئے، اور عمومی طور پر وہ ہر ایک کی دسترس میں آگئے۔ دنیا میں مکمل معنوں میں مذہبی آزادی کا دور آیا،جس میں ہر ایک کو یہ موقع تھا کہ وہ جس مذہب کو چاہیں اختیار کرے، اور اس کی تبلیغ کرے، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ آدمی تشدد (violence) سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔

جدید تہذیب مسلمانوں کے لیے حدیث کی زبان میں مؤید دین تہذیب ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062، مسند احمد، حدیث نمبر 20454، المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640) تھی۔ وہ مسلمانوں کے لیے ایک عظیم موقع (great opportunity) تھا، جس کو استعمال کرکے مسلمان جدید معیار کے مطابق زیادہ مؤثر انداز میں اسلام کی اشاعت کا کام کرسکتے تھے۔ جدیدتہذیب نے یہ کیا کہ اجارہ داری کے دور کو ختم کردیا۔ اس طرح انسانی آزادی کا وہ مطلوب ماحول پیدا ہوگیا، جو خدا کے نقشۂ تخلیق کے مطابق درکار تھا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion