جدید مائنڈ سٹ
میں کئی مہینے سے بیماری کے دور سے گزر رہا تھا۔ آخر کار ہمارے ساتھیوں نےستمبر2019 کے پہلے عشرےمیں یہ فیصلہ کیا کہ مجھ کو دلی کے سب سے اچھے اسپتال میں لے جائیں۔میں اس کےلیے راضی نہیں تھا۔ کیوں کہ نوجوانی کی عمر سے میں یہ سنتا تھا کہ اسپتال انسان کے لیے کوئی اچھی جگہ نہیں ہے۔ مثلا ًمشہور اردو شاعر اکبر الہ آبادی نے جدید دور کے بارے میں طنزیہ انداز میں لکھا تھا:
ہوئے اس قدر مہذب کبھی گھر کا منہ نہ دیکھا
کٹی عمر ہوٹلوں میں مرے اسپتال جا کر
انڈیا کے ایک معروف عالم دین کے قریبی لوگ بتاتے ہیں کہ وہ یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ سے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ اسپتال کی زندگی سے بچائے۔ مجھے دو بزرگوں کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ علاج کے لیے امریکا گئے۔ جب وہ روانہ ہونے لگے، تو ان کے معتقدین نے ان کو مشورہ دیا کہ حضرت آپ یہودی ڈاکٹر وںسے علاج مت کیجیے گا۔ کیوں کہ یہودی مسلمانوں کے دشمن ہوتے ہیں۔
مسلمانوں کے درمیان اس قسم کا ماحول اس بات کے لیے رکاوٹ بن گیا ہے کہ وہ جدید ترقیوں سے فائدہ اٹھائیں۔ وہ اپنے مائنڈ سیٹ کے مطابق جدید ترقیوں سے الرجک ہوگئے ہیں۔ان حضرات کو یہ معلوم ہی نہیں کہ موجودہ زمانہ پروفیشنلزم(professionalism) کا زمانہ ہے۔ اب یہودی ڈاکٹر یہود کی حیثیت سے علاج نہیں کرتے، اب کرشچن ڈاکٹر کرشچن کی حیثیت سے کسی انسان کا طبی معاینہ نہیں کرتا، بلکہ خالص پروفیشنل انداز میں وہ اس کام کو انجام دیتا ہے۔
جدید ترقی کیا ہے۔ وہ دراصل خدا کے پیدا کردہ امکانات کو دریافت کرکے ان کو استعمال کرنا ہے۔ یہ ترقی غیر اسلامی ترقی نہیں، بلکہ وہ خود خدا کی تخلیق کا حصہ ہے۔ مسلمانوں نے اس حقیقت کو سمجھنے میں بہت زیادہ دیر کی ۔ اب انھیں بلاتاخیراس حقیقت کو سمجھنا چاہیے، تاکہ وہ مزید نقصان سے بچ جائیں۔( 11 ستمبر2019)
