ایک تجربہ
آج دسمبر 2019 کی 3 تاریخ ہے۔ اس وقت میں نظام الدین ویسٹ میں ایک پارک میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ بیٹھا ہوا ہوں۔ دھوپ نکلی ہوئی ہے، اور موسم نہایت خوشگوار ہے۔ یہاں پارک میں بیٹھ کر میں نے مولانا عبد السلام عمری (حیدر آباد) سے موبائل پر گفتگو کی۔گفتگو کرتے ہوئے میں نے سوچا کہ میں نے پہلی بار حیدر آباد کا سفر غالباً 1948 میں کیا تھا۔ اس وقت میں ٹرین کا سفر کرکے حیدر آباد پہنچا تھا۔ اس زمانے میں دلی سے حیدر آباد کا کمیونی کیشن بہت محدود معنوں میں ہوسکتا تھا۔ اب اللہ کے فضل سے کمپوٹر ایج آچکا ہے، اور یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ بہ آسانی رابطہ قائم کیا جاسکے۔
1925 میں جب میں پیدا ہوا، اس وقت دنیا میں برٹش ایمپائر موجود تھا۔ یہ ایک پولٹکل ایمپائر تھا۔ اس وقت ایمپائر قائم کرنے کی صرف ایک صورت تھی، اور وہ یہ کہ صاحبِ ایمپائر کے پاس فوج کی طاقت موجود ہو۔ مگر آج فوج کی کوئی ضرورت نہیں۔ آج کی دنیا میں اقوامِ متحدہ (UNO)کا نظام ہر ایک کو عالمی سطح پر مکمل امن دے رہا ہے۔ اگر آدمی خود سے اپنی کسی غلطی کی بنا پر اس امن کو درہم برہم نہ کرے، تو وہ پائے گا کہ ساری دنیا اس کی اپنی دنیا ہے۔ ساری دنیا اس کے لیے مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے۔
اب ہر پرامن انسان کے لیے وہ عالمی دور آچکا ہے، جس کی پیشین گوئی پیغمبر اسلام نے ان الفاظ میں کی تھی:لَیَبْلُغَنَّ ہَذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ اللَّیْلُ وَالنَّہَارُ(مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ امر وہاں تک پہنچے گا، جہاں تک دن اور رات پہنچتے ہیں۔ میں اس وقت اپنے ساتھی کے ساتھ نظام الدین ویسٹ کے پارک میں بیٹھا ہوں، ہمارے پاس لیپ ٹاپ اور موبائل فون انٹرنیٹ کے ساتھ موجود ہے۔ پوٹنشلی (potentially) ہم ساری دنیا سے مکمل طور پر مربوط ہیں۔ کیسی عجیب ہے، اللہ کی یہ نعمت، وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ (40:57)۔یعنی لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔
