محفوظ کا تحفظ

دیوبند کے دو عالم ملاقات کے لیے آئے۔ان کے ساتھ میں نے جو گفتگو کی، اس کا خلاصہ میں نے اپنی ڈائری میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے: ’’ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل جگہ جگہ تحفظ ِختم ِنبوت کانفرنس ہو رہی ہے۔ میں اس قسم کی کانفرنسوں کو بالکل بے معنی سمجھتا ہوں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تحفظِ آفتاب کانفرنس منعقد کی جائے۔ سورج براہ راست خدا کی طاقت سے قائم ہے، اس کے لیے تحفظ آفتاب کانفرنس کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اسی طرح نبوت کی حفاظت بھی خدا نے اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اس کے لیےبھی یہ ضرورت نہیں کہ تحفظ نبوت کانفرنس منعقد کی جائے۔ مسلمانوں کی اصل ذمے داری پیغام نبوت کی پیغام رسانی ہے۔ یعنی پیغمبر نے اپنے بعد جو دین چھوڑا ہے، اس کو دنیا کی تمام قوموں تک پہنچانا۔ موجودہ زمانے کے مسلمان دعوتِ نبوت کا کام نہیں کرتے، البتہ وہ تحفظِ نبوت کی کانفرنس کر رہے ہیں۔ اس قسم کا فعل مسلمانوں کی اصل مسئولیت کا کسی بھی درجے میں بدل نہیں۔‘‘(ڈائری، 5 دسمبر 1989)

تحفظ ختم نبوت کا مطلب کیا ہے۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہے کہ ختم نبوت کا عقیدہ خطرے میں ہے، اس کو بچاؤ۔ مگر سوال یہ ہے کہ کہاں خطرے میں ہے، اور کون اس کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ اس کا حقیقی جواب کسی کے پاس نہیں۔ یہ ایک مفروضہ خطرے پر کانفرنس منعقد کرنا ہے۔ اس مسئلے پر اگر کچھ کام کرنا ہے،تو وہ نبوت کے عقیدے پر ایسی کتابیں لکھنا ہے، جو علمی اور تاریخی دلائل کی بنیاد پر تیار کی گئی ہوں۔ ایسی کتابیں ، جن سے لوگوں کو پیغمبر کی رہنمائی پر یقین حاصل ہو۔ ایسی کتابیں، جو لوگوں کے ایمان میں اضافہ کرنے والی ہوں۔ ایسی کتابیں ، جو موجودہ عقلی دور میں لوگوں کے لیے عقل کی بنیاد پر اس عقیدے کو قابل فہم بنائیں۔ یہ کتابیں سب و شتم کی زبان میں نہیں ہونا چاہیے، بلکہ عقلی دلائل کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ یہ زمانہ عقلی تفہیم و تبیین کا زمانہ ہے۔ کوئی اور اسلوب آج کے انسان کے لیے مؤثر نہیں ہوسکتا۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion