اتحاد ملّت
ملت میں اتحاد ایک بے حد مطلوب چیز ہے۔ لیکن اتحاد کا راز صرف ایک ہے— اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اتحاد (unity) کبھی اس طرح پیدا نہیں ہوتا کہ سب لوگوں کی رائے بالکل ایک ہوجائے۔ رایوں کا اختلاف ایک فطری امر ہے۔ اختلاف ہمیشہ موجود رہتا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق یہ بالکل ناممکن ہے کہ اختلاف سرے سے موجود نہ رہے۔اتحاد ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ لیکن اتحاد ایک عملی ضرورت ہے، نہ کہ اعتقادی ضرورت۔
انسان ایک سوچنے والی مخلوق ہے۔ مختلف انسانوں کی سوچ کبھی یکساں نہیں ہوسکتی۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے کہ لوگوں کی سوچ میں یکسانیت (uniformity)نہ ہو۔ اس لیے اختلاف کو مٹاکر اتحاد کو قائم کرنے کی شرط ایک ناممکن شرط ہے۔ اختلاف کو مٹاکر اتحاد قائم کرنا، ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹو (counter-productive)ثابت ہوتا ہے۔ اگر آپ اختلاف کو ختم کرکے اتحاد پیدا کرنا چاہیں ، تو ایسی کوشش ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرے گی۔ اس لیے اگر آپ اتحاد پیدا کرنا چاہتے ہیں، تو لوگوں کے اندر برداشت اور رواداری کی صفت پیدا کیجیے۔ لوگوں کو بتائیے کہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا، یہی اتحاد ہے۔ تمام لوگوں کو ہم خیال کرکے اتحاد پیدا کرنا، ایک ناممکن چیز کی کوشش کرنا ہے۔
کسی گروہ میں اگر اختلاف رائے پیدا ہو، تو اس کو ایک صحت مند علامت سمجھیے— لوگوں سے ڈسکشن کیجیے، لوگوں سے پرامن ڈائلاگ کیجیے، ڈسکشن کے بعد اگر لوگ اپنی رائے بدل لیں، تو اس پر اللہ کا شکر کیجیے، اور اگر لوگ رائے بدلنے پر تیار نہ ہوں، تو آپ بذاتِ خود اختلاف کے باوجود متحد ہوکر رہنے کا طریقہ اختیار کیجیے، اور اسی کو خیر سمجھیے۔
اختلافِ رائے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے اندر تخلیقی فکر (creative thinking) موجود ہو۔ لوگوں کے اندر کھل کر سوچنے کا مزاج موجود ہو اور لوگ فکری جمود کی برائی سے بچے ہوئے ہوں۔ اگر ایسا ہے تو یہ شکر کی بات ہے، نہ کہ ٹکراؤ کی بات۔
