مسلح جہاد

اسلام کے کچھ احکام وقتی ہوتے ہیں، یعنی وقتی حالات کی نسبت سے مطلوب ہوتے ہیں۔ مثلاً قرآن میں حج کے سفر کے ذیل میں یہ آیا ہے: وَأَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلَى کُلِّ ضَامِرٍ یَأْتِینَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیقٍ (22:27)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بروقت پیدل اور اونٹ پر سفر کرکے حج کیا جائے۔ لیکن جب ہوائی جہاز کا زمانہ آجائے، تو ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کرکے حج کیا جائے۔

اسی طرح قرآن میں مسلح جہاد کا حکم وقتی ہے، یعنی جب تک دنیا میں وائلنٹ ایکٹوزم کا دور ہے، تو تم بھی بطور دفاع وائلنٹ ایکٹوزم کا طریقہ اختیار کرو۔ جب دنیا میں پیس فل ایکٹوزم کا دور آجائے، تو اس وقت مسلح جہاد مطلوب نہیں رہے گا۔ اس وقت زمانے کے تقاضے کے لحاظ سے پیس فل جہاد مطلوب ہوجائے گا۔ کیوں کہ بعد کے زمانے میں ایسے اسباب پیدا ہوں گے کہ مسلح جدو جہد غیر مطلوب ہوجائے گا۔ اس وقت سے پہلے کے دور میں مسلح عمل سے جو چیز حاصل کی جاتی تھی، وہ سب مزید اضافے کے ساتھ پیس فل طریقہ کار کے ذریعہ قابلِ حصول ہوجائے گا۔

پہلے زمانے میں طاقت کا نشان صرف تلوار ہوتی تھی۔ چنانچہ کہا جاتا تھا: ہر کہ شمشیر زند سکہ بنامش خوانند۔ مگر سائنسی انقلاب کے بعد ساری اہمیت علم، ٹکنالوجی اور انڈسٹری کو حاصل ہوگئی ہے۔یہ واقعہ جنگ عظیم ثانی (1939-1945)کے بعد پیش آیا ہے۔ اس حقیقت کی طرف ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے : لَا ہِجْرَةَ بَعْدَ الْفَتْحِ(صحیح البخاری، حدیث نمبر2783)۔ یعنی فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہجرت کے بعد ایک ایسا دور آنے والا تھا، جب کہ اسلام پر عمل کرنے کے لیے ہجرت کرنا غیر ضروری ہوجائے گا۔کیوں کہ اس کے بعد سب کچھ پرامن ذرائع سے حل کرنا ممکن ہوجائے گا، یعنی وہ دور ایسا ہوگا کہ اس میں دعوتی جہاد کا عمل پر امن طریقے سے انجام دیا جائے گا— اسلام میں اصل مطلوب مقصد ہے، نہ کہ ذریعہ ۔

Magazine :
Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion