عصری اسلوب میں اسلامی دعوت

عصری اسلوب میں اسلامی دعوت کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو ایسے اسلوب میں پیش کیا جائے جو عصری ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ یہ اسلوبِ کلام کو بدلنے کی بات ہے، نہ کہ خود پیغام کو بدلنے کی بات۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ قرآن کی سورہ البلد میں یہ آیت آئی ہے:لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ (90:4) ۔اِس آیت کالفظی ترجمہ یہ ہےکہ ہم نے پیدا کیا ہےانسان کو مشقت میں۔

 آج کے ذہن کے لیے مشقت کا لفظ ایک منفی لفظ ہے۔ آج کا ذہن چیزوں کو مثبت اصطلاح (positive term) میں سمجھنا چاہتا ہے۔ آج کے ذہن کے لیے مذکورہ آیت کو زیادہ قابل فہم بنانے کی صورت یہ ہے کہ مشقت کے لفظ کے معنوی پہلو کو نمایاں کیا جائے، اور یہ کہا جائے کہ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو چیلنج کے حالات میں پیدا کیا ہے:

We have created man in a world of challenges.

 اسلام کی تعلیمات کو عصری اسلوب میں پیش کرنا بلاشبہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے۔ مگر یہ کوئی پراسرار بات نہیں ۔اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کامل طور پر غیر متعصبانہ انداز میں جدید ذہن کا مطالعہ کیا جائے اور پھر اسلام کی تعلیمات کو ایسے الفاظ اور ایسی اصطلاحوں میں بیان کیا جائے جو آج کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔

 اس کام کو کرنے کے لیے پہلی شرط ہے جدید انسان کے بارے میں منفی سوچ کا کامل خاتمہ۔ اس شرط کو پورا کیے بغیر کوئی شخص ہرگز یہ خدمت انجام نہیں دے سکتا ۔اس شرط کو پورا کیے بغیر جو شخص یہ کام کرے ،وہ جدید ذہن کی نمائندگی بھی غلط کرے گا اور اس کی نسبت سے اسلام کی تشریح بھی غلط۔ منفی سوچ کیا ہے، اس کی ایک مثال اکبر الہ آبادی (وفات 1922) کے یہ اشعار ہیں :

پانی پینا پڑا ہے پائپ کا           حرف پڑھنا پڑا ہے ٹائپ کا

پیٹ چلتاہے آنکھ آئی ہے          شاہ ایڈورڈ کی دہائی ہے

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion