غیر فطری اختلاف
مولانا محمد بدر عالم میرٹھی (وفات 1965)مشہور حنفی عالم تھے۔ ان کا ایک واقعہ مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:ایک روز فرمانے لگے کہ حنفی مسلک کا سب سے مشکل مسئلہ کون سا ہے جس کو ثابت کرنا حنفیوں کے لیے بڑا دشوار ہوتا ہے۔ ہم نے فاتحہ خلف الامام ،آمین بالجہر، اس طرح کے مسائل بتانے شروع کیے۔ فرمایا نہیں۔ حنفی مسلک کا سب سے مشکل مسئلہ وتر کا ہے۔ یہ فرما کر اپنے استاد حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کی عربی کتاب ’’کشف الستر عن صلوٰۃ الوتر‘‘ مجھے دی اور فرمایا کہ اس کا غور سے مطالعہ کر کے آنا (ماہ نامہ دارالعلوم، مارچ 2010، صفحہ 31)۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام کے بعد کے زمانے میں، عباسی دور میں جو فقہ بنی، اس کی حقیقت کیا تھی۔ اس زمانے میں بظاہر بہت سے فقہی اسکول قائم ہوئے، لیکن اصل حقیقت کے اعتبار سے سب کی نوعیت ایک تھی، تمام فقہا بظاہر اختلاف کے باوجود ایک ہی مشترک مہم میں مشغول تھے۔ اور وہ تھا، اسلام کا ایک ظاہری فارم بنانا ۔فقہا کی تمام تر توجہ اسلامی عمل کے ظاہری فارم پر تھی، نہ کہ اس کے داخلی اسپرٹ پر۔
اس غلط ترجیح کی بنا پر فقہا کی کوششیں غیر مفید ہو کر رہ گئیں۔ فارم میں فطری طور پر موضوع تنوع اور تعدد ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کا ایک مستند فارم بنانے کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ متعدد مذاہب ِفقہ قائم ہو گئے ۔اتحاد کی کوشش عملاً تفریق میں تبدیل ہو گئی ۔فقہا کے پاس کوئی خود دریافت کردہ عبادتی ڈھانچہ نہیں تھا، وہ یہی کر سکتے تھےکہ اصحاب رسول کی روایتوں سے عبادت کا طریقہ متعین کریں۔ بطور حقیقت اصحاب رسول کی عبادت کے طریقوں میں اختلاف تھا، ایسی حالت میں اگر فقہا تنوع کے اصول کو مان لیتے تو مسلک کا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جاتا ۔اس کے برعکس، انہوں نے عبادات کا واحد مستند فارم بنانے کی کوشش کی ،اس کا نتیجہ عملاً یہ نکلا کہ غیر ضروری طور پر مختلف فقہی مسالک قائم ہو گئے۔
شیخ محمد امین شنقیطی (وفات 1974) مشہور عرب عالم تھے۔ ان کا ایک واقعہ مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:شیخ شنقیطی اکثر کہا کرتے تھے کہ ہمارے علما دینی بصیرت کے ساتھ جب تک سائنسی علوم حاصل نہیں کریں گے، اور ہمارے نوجوان ان سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ اس وقت تک فکری غلبہ حاصل نہ ہو سکے گا۔ کیونکہ اس وقت یورپ کے افکار دنیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ اور ان کا جواب ان کی زبان میں دینا ہوگا۔ (ماہ نامہ دارالعلوم،مارچ 2010،صفحہ 35)
جدید مغربی افکار کے بارے میں مسلم علما کا عام ذہن یہی ہے۔ وہ ان کو اسلام پر مغرب کے فکری حملے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں وہ جس چیز کو اپنی ضرورت سمجھتے ہیں، وہ صرف یہ ہے کہ اہل اسلام کی طرف سے ان کا دفاعی جواب دیا جائے۔ یہ مغربی افکار کا صرف کمتر اندازہ ہے۔ مغربی افکار، دوسرے الفاظ میں سائنس کی زمین پر پیدا شدہ افکار کا نام ہیں، اور سائنس علوم فطرت کا دوسرا نام ہے۔ اس اعتبار سے، سائنس خود اسلام کے لیے ایک تائیدی علم کی حیثیت رکھتی ہے۔ جدید طبیعی سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اسلام کا جدید علمِ کلام ہے۔
اِس معاملے میں مسلم علما کی یہ ہلاکت خیز غلطی ہے کہ وہ مغربی سائنس سے مغربی کلچر کو ایک دوسرے سے الگ کر کے نہ دیکھ سکے۔ اپنی عدمِ واقفیت کی بنا پر وہ دونوں کو ایک دوسرے کے ہم معنی سمجھتے ہیں۔ مغربی سائنس کا علم کتابوں کے ذریعے حاصل ہوتا ہےاور انہوں نے یہ کتابیں پڑھی نہیں۔ اس کے برعکس، مغربی کلچر کا معاملہ یہ ہے کہ وہ کتابی مطالعے کے بغیر جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے مغربی کلچر کو دیکھ کر یہ فرض کر لیا کہ یہی معاملہ مغربی سائنس کا بھی ہے۔ یہ مسئلہ ’’جواب‘‘ دینے کا نہیں ہے،بلکہ اصل ضرورت یہ ہے کہ جدید سائنسی علم کو اسلام کے حق میں استعمال کیا جائے (حکمتِ اختلاف، صفحہ 90)۔
