کامیاب شادی کا راز ایڈجسٹمنٹ
یورپ کے ایک نوجوان ڈاکٹر سے گفتگو ہوئی ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے یہاں تقریباًصد فی صد لومیریج ہوتی ہے ۔ پھر کیاوجہ ہے کہ بیشتر شادیاں تفریق پرختم ہوجاتی ہیں۔ اور اس کے بعد دونوں اکیلے زندگی گزارتے ہیں ۔ انھوں نے مختلف وجہیں بیان کیں۔ مثلاً یہ کہ حقیقت میں وہ محبت نہیں ہوتی۔ بلکہ سطحی کشش سے قریب ہو کر دونوں شادی کر لیتے ہیں، وغیرہ ۔
میں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ مرد فطری طور پر غلبہ کا رجحان رکھتا ہے۔ شادی کے بعد ابتدائی کچھ دنوں تک اس کا یہ رجحان دبارہتا ہے۔ مگر جلد ہی یہ رجحان ظاہر ہونے لگتا ہے۔ اب شوہر چاہتا ہے کہ وہ گھر میں غالب ممبر کی حیثیت سے رہے ۔ دوسری طرف عورت فیمنسٹ تحریکوں کے زیر اثر (نہ کہ فطرت کے زیر اثر) صنفی مساوات(gender equality)کے نظریہ کے مطابق رہنا چاہتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ٹکراؤ شروع ہوتا ہے جو بالآخر تفریق اور طلاق پر ختم ہو تا ہے ۔ انھوں نے میرے نقطۂ نظر سے کامل اتفاق کیا۔
پھر میں نے کہا کہ اس سلسلہ میں دوسری قابل لحاظ بات یہ ہے کہ شادی سے پہلے جب ایک نوجوان کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے تو ابتدائی تاثر کے تحت وہ سمجھتا ہے کہ یہ میرے لیے پرفیکٹ عورت ہے۔ مگر اس دنیا میں کوئی چیز پرفیکٹ نہیں ۔ اور اسی طرح کوئی عورت یا مرد پرفیکٹ نہیں ۔ جلد ہی مرد کے اوپر یہ حقیقت کھل جاتی ہے۔ اب وہ اپنی پسندیدہ خاتون کوکم تر سمجھ کر اس سے بے رغبت ہونے لگتا ہے ۔ یہاں تک کہ دونوں ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں۔
اس مسئلہ کا حل طلاق یا دوسرا نکاح نہیں ہے ۔ بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ آپ یہ جانیں کہ اس دنیا میں کوئی بھی چیز آئیڈیل یا پرفیکٹ نہیں ۔ یہاں ہر معاملہ میں ہمیں غیر آئیڈیل یا غیر پرفیکٹ کے ساتھ ایڈجسٹ کرتے ہوئے زندگی گزارنا ہے۔ گویا کامیاب ازواجی زندگی کا راز ایڈجسٹمنٹ میں ہے، نہ کہ ناکام طور پر کامل پارٹنر کو تلاش کرنا، جو کبھی ملنے والا نہیں۔ انھوں نے میری اس بات سے بھی مکمل اتفاق کیا۔
