ناکامی کا مثبت پہلو

مشہور سائنس داں سر آئزِک نیوٹن (وفات1727) ایک غریب فیملی میں پیدا ہوا ۔ابتدائی عمر میں اس کی ماں نے اس کو خاندانی کام میں لگا دیا،یعنی کھیتی کرنا اور مویشی پالنا ۔لیکن نیوٹن اس کام کے لیے اہل ثابت نہ ہوا، وہ اس میں بری طرح ناکام ہو گیا۔اس ناکامی کے بعد نیوٹن کو ایک اسکول میں داخل کر دیا گیا۔تعلیم کے اس نئے میدان میں وہ کامیاب رہا اور ترقی کرتے کرتے آخر کار اعلیٰ درجے کا سائنس داں (scientist) بن گیا۔

کاشتکاری کے پیشے میں نیوٹن کی ناکامی اس بات کا اشارہ تھی کہ فطرت نے نیوٹن کو کسی اور کام کے لیے پیدا کیا ہے،یعنی نیوٹن کو پیدا کرنے والے نے اس کو کاشتکاری کے لیے نہیں،بلکہ سائنس کے لیے پیدا کیا ہے۔اس واقعے میں ہر آدمی کے لیے ایک سبق ہے۔اگر تم ایک میدان میں ناکام ہو جاؤ تو مایوس نہ ہو،بلکہ اپنے لیے دوسرے میدان کار کو دریافت کرو۔اپنی ابتدائی ناکامی کو اس بات کا ذریعہ بناؤ کہ تم اپنے لیے زیادہ بہتر میدانِ عمل کا انتخاب کر سکو۔

ہر انسان جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے،وہ ہمیشہ اعلیٰ صلاحیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر چھپی ہوئی مخصوص صلاحیت کو دریافت نہیں کر پاتا۔وہ بے خبری میں کوئی ایسا کام شروع کر دیتا ہے، جس کے لیے اس کے خالق نے اس کو پیدا نہیں کیا تھا۔اس قسم کے افراد اکثر اپنی زندگی میں ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔یہ ناکامی سادہ طور پر صرف ناکامی (failure) نہیں ہوتی،بلکہ وہ فطرت کی خاموش زبان میں ایک نئے پیغام کے ہم معنی ہوتی ہے۔جو انسان اپنی ناکامی کو دیکھ کر مایوس ہو جائے،وہ فطرت کے اشارے کو دریافت نہ کر سکے گا۔ لیکن جو شخص اپنی ناکامی کو ایک مثبت تجربہ (positive experience) سمجھے اور دوبارہ غور و فکر کرے تو وہ یقینی طور پر اپنے لیے ایک نیا اور بہتر چوائس (better choice) دریافت کرے گا اور اس کے مطابق،عمل کر کے کامیابی کی منزل تک پہنچ جائے گا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion