قربانی کیا ہے

عید اضحی کی قربانی کا ذکرقرآن کی سورۃ الصافات میں آیا ہے۔ متعلق آیات کا ترجمہ یہ ہے:(ابراہیم نے کہا) اے میرےرب !مجھے ایک صالح (فرزند) دے ۔ تو ہم نے اس کو ایک تحمل والے فرزند کی بشارت دی ۔ پس جب وہ اس کے ساتھ چلنے پھرنے کی عمر کو پہنچا، اس نے کہا، اے میرے بیٹے ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں تو دیکھو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ اسماعیل نے کہااے میرے باپ، تم کرو،جس کاتم کو حکم دیا جا رہا ہے(يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ)۔ تم پاؤگے ، مجھے،ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے(سَتَجِدُنِي إِنْ شاءَ اللهُ مِنَ الصَّابِرِينَ)۔ پس جب دونوں نےخودکو رب کے حوالےکردیا، اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل لٹا دیا ۔ ہم نے اس کو آواز دی، اے ابراہیم ! تم نے خواب کو سچ کر دکھایا ! بیشک ہم محسنین کو ایسا ہی صلہ دیتے ہیں (قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيا إِنَّا كَذلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ)۔ بیشک یہ کھلا ہوا امتحان تھا۔ اور ہم نے اس کو ایک عظیم قربانی کے عوض چھڑا لیا ۔ (37:100-107)

ان آیات پر غور کیجیے، اور دیکھیے کہ خواب کیا تھا، اور پیغمبر ابراہیم نے جو کیا، وہ کیا تھا۔ خواب بظاہر بیٹے کے ذبیحہ کا تھا۔ لیکن حضرت ابراہیم نے اس کے بدلے جس چیز کو ذبح کیا ، وہ عملاً ایک دنبہ تھا، نہ کہ بیٹا۔ اس قربانی کوقرآن میں ذِبح عظیم قرار دیا گیا۔ گویا کہ وہ عمل جو اسماعیل کے ساتھ کیا گیا ،وہ ذبح عظیم تھا، اور وہ عمل جو دنبہ کے ساتھ کیا گیا، علامتی قربانی تھی۔ مطلوب قربانی یہ تھی کہ بیٹے کو ذبح کیا جائے۔ اس مطلوب کو پیغمبر ابراہیم نے کس طرح پورا کیا۔ اس کی صورت یہ تھی کہ پیغمبر ابراہیم نے اپنے بیٹے کو عرب کے غیر ذی زرع (بے آب و گیاہ)صحرا میں ان کی ماں کے ساتھ آباد کردیا۔

افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ(آپ وہ کیجیے،جس کاآپ کو حکم دیا جا رہا ہے)کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم اور اسماعیل دونوں نے حکم خداوندی کی پوری طرح تعمیل کی، اور وہ تعمیل یہ تھی کہ انھوںنے اسماعیل اورہا جرہ کو صحرا میں ایک نئی نسل کی تیاری کے لیے وقف کردیا۔ یہ تاریخ کی ، بلاشبہ، سب سے بڑی مقصدی قربانی تھی۔ اس لیے قرآن نے اس کو ذِبح عظیم کا نام دیا۔

اس عظیم قربانی کا جو نتیجہ سامنے آیا، وہ یہ تھا کہ اس صحرا میں توالد و تناسل کے ذریعے ایک نسل تیار ہوئی، جو ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک تھی۔ اس واقعے کی مزید تفصیل حدیث اور سیرت کی کتابوں میں آئی ہے۔ یہی وہ نسل ہے، جس میں پیغمبر ابراہیم کےتقریباً 2000 سال کے بعد اصحابِ رسول پیدا ہوئے، جنھوں نے عظیم جدو جہد کے ذریعے وہ عالمی انقلاب پیدا کیا، جس کو ایک فرنچ مورخ ہنری پرین (Henri Pirenne) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

It (Islam) had sufficed to change the face of the globe. Wherever it had passed the ancient States, which were deeply rooted in the centuries, were overturned as by cyclone;The traditional order of history was overthrown. (A History of Europe, London, 1955, p. 46)

یعنی،اسلام نے دنیا کا نقشہ بدل ڈالا۔ جہاں جہاں اسلام پہنچا، وہاں صدیوں سے انتہائی مضبوطی کے ساتھ جمی ہوئی قدیم ریاستوں کو گویا ایک طوفان کی مانند پلٹ کر رکھ دیا۔ تاریخ کا قدیم روایتی نظام ٹوٹ کر بکھر گیا۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion