جنتِ آخرت
ابن تیمیہ (وفات 728ھ) ساتویں صدی ہجری کے معروف عالم دین تھے۔ ان کے شاگرد کا نام ابن القیم الجوزیہ(وفات 751ھ) نے ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے:إِنَّ فِي الدُّنْيَا جَنَّةً مَنْ لَمْ يَدْخُلْهَا لَمْ يَدْخُلْ جَنَّةَ الْآخِرَةِ (مدارج السالکین، جلد 1، صفحہ452)۔ یعنی، بیشک دنیا میں ایک جنت ہے، جو اس میں داخل نہیں ہوا، وہ آخرت کی جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر پیدا ہونے والا انسان ایک اَن دیکھی جنت کی تلاش کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ وہ اسی اَن دیکھی جنت کو پانے کے لیے ساری عمر سرگرداں رہتا ہے۔ مگر کوئی شخص اس مطلوب جنت کو حاصل نہیں کر پاتا ، یہاں تک کہ وہ دنیا سے چلاجاتا ہے۔ یہ اَن دیکھی جنت کیا ہے۔ یہ جنت وہی ہے، جس کو انسان نے پیدائش کے وقت دیکھا تھا۔ لیکن اس کے بعد شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کی وجہ سے وہ اس سےمحروم ہوگیا۔ اب ہر شخص اس جنت میں داخلے کے لیے سرگرداں ہے۔ یہ جنت اگرچہ آج انسان کو حاصل نہیں۔ لیکن اس جنت کی طلب ہر انسان کے لا شعور میں پیوست ہے۔ ہر انسان چاہتا ہے کہ وہ دوبارہ اپنی اس کھوئی ہوئی جنت کو پالے۔
قرآن میں ہے کہ اللہ رب العالمین انسان کو اس جنت میں داخل کرے گا، جس کی اسے پہچان کرادی گئی ہے(محمد، 47:6)۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ دنیا کی زندگی میں وہ جنت کا اتنا زیادہ طالب بنے کہ اس کو فطرت میں بسی ہوئی اس جنت کی معرفت ہوجائے۔ جنت کی یہی معرفت ابدی جنت کا ٹکٹ ہے۔ انسان کی اعلیٰ خواہشیں اسی جنت کا پیشگی تعارف ہیں۔ متلاشی انسان (seeker) وہ ہے، جواپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعہ جنت کا تصوراتی ادراک کرتاہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے، جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج آنکھوں کے سامنے موجود دنیا کو قربان کرکے کل کی جنت کا امیدوار نہ بنے۔
