ضروری تیاری کے بغیر

 کوئی انسان، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اس دنیا میں آتا ہے تو فطری طور پر اس کے لیے یہاں لامحدود امکان (unlimited potential) موجود ہوتا ہے۔مگر دنیا کے فطری قانون کے مطابق، یہاں منصوبہ بندی اور ضروری تیاری کے بغیر کامیابی نہیں ملتی ۔ کیوں کہ یہاں ہر چیز آپ کو پوٹنشل (potential) کی صورت میں ملتی ہے۔

 آپ کویہ کرنا پڑتا ہے کہ آپ اس پوٹنشل کو دریافت کریں، اور پوٹنشل کو ذاتی عمل سے اپنے لیے ایکچول (actual) بنائیں۔ مثلاً درخت کا پھل آپ کو خود سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ آپ کویہ کرنا پڑتا ہے کہ زرخیر زمین (soil) میں ایک پودا لگائیں۔ صبر کے ساتھ اس کی نگہداشت کرتے ہوئےاس کو اگانا شروع کریں۔ اس طرح وہ وقت آتا ہے، جب کہ درخت ایک مکمل درخت بن جائے، اور اپنا پھل آپ کو دینا شروع کرے۔اسی طرح انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اقدام سے پہلے گہرےمطالعے کےذریعہ مواقع کو دریافت کرے اور پھر دانش مندانہ منصوبہ بندی کے ذریعے اس کو استعمال (avail) کرے۔

یہی فطری اصول فرد اور گروہ کی کامیابی کے لیے یکساں طور پر مطلوب ہے۔ انسان کے لیے اس دنیا میں موافق زمین (opportunity)کی کوئی کمی نہیں ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اس کے لیے ضروری تیاری کی جائے۔ تیاری کے بغیرمواقع کو پانا ممکن نہیں۔ ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ انسان صبر اور مثبت سوچ کی روش اختیار کرے۔ اس میں ادنیٰ درجے کا ڈسٹریکشن (distraction) انسان کو کامیابی سے دور کردیتا ہے۔ وہ امکان کے قریب پہنچ کر بھی امکان سے دور ہوجاتا ہے۔

 پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ اِسی طریقے کا یہ نتیجہ تھا کہ آپ کو ہر اعتبار سے غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی۔ اِس طریقے کو، دوسرے لفظوں میں حکیمانہ طریقِ کار کہاجاسکتا ہے۔

Share icon

Subscribe

CPS shares spiritual wisdom to connect people to their Creator to learn the art of life management and rationally find answers to questions pertaining to life and its purpose. Subscribe to our newsletters.

Stay informed - subscribe to our newsletter.
The subscriber's email address.

leafDaily Dose of Wisdom

Ask, Learn, Grow

Your spiritual companion