امر بالمعروف، نہی عن المنکر
معروف کا حکم کرنا اور منکر سے روکنا اسلامی شریعت کی ایک اہم تعلیم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلم خاندان یا مسلم معاشرے میں محاسبہ (introspection)کی روح ہمیشہ زندہ رہے۔ ایک مومن دوسرے مومن کا سچا ناصح بنا ہوا ہو۔ مومنانہ کردار کی ادائیگی میں جب بھی کوئی شخص کوتاہی کرے تو اس کا ساتھی یا اس کا پڑوسی یا اس کا ہم صحبت پوری خیرخواہی کے ساتھ اس کو نصیحت کرے۔ حدیث کے الفاظ میں ہر مومن دوسرے مومن کا آئینہ بن جائے — الْمُؤْمِنُ مِرْآةُ الْمُؤْمِنِ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4918)۔ جس طرح آئینہ اپنے دیکھنے والے کو کسی کامپلکس (complex) کے بغیر ٹھیک ٹھیک نشان دہی کرتا ہے، اسی طرح ہر مومن دوسرے مومن کے لیے آئینے جیسا کردار ادا کرتا رہے۔
موجودہ زمانے میں کچھ لوگوں نے معروف ومنکر کی تعلیم میں بطور خود جامعیت کا تصور شامل کرکے اسلام کی اس مثبت تعلیم کو منفی رخ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ معروف و منکر کی تعلیم کا تعلق صرف انفرادی زندگی سے نہیں، بلکہ وہ اجتماعی زندگی تک محیط ہے۔ اس تعلیم کا تقاضا ہے کہ اہل ایمان معروف و منکر کی تعلیم کو پوری اجتماعی زندگی میں نافذ کریں، اس راہ میں جو سیاسی یا غیرسیاسی رکاوٹ ہو، اس سے لڑکر اس کوراستےسے ہٹادیں۔
معروف و منکر کا یہ جامع تصور بلاشبہ ایک خود ساختہ تصور ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اسلام کی اصل تعلیم سے یقینی طور پر ایک انحراف ہے۔ مسلم دنیا میں نظامِ عدل کی اقامت کے نام پر اس وقت جو تشدد کلچر جاری ہے، وہ براہ راست طور پر اس انحراف کا نتیجہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا اصل نشانہ فرد (individual)ہے، نہ کہ نظام (system)۔ قرآن و حدیث میں جہاں بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تعلیم آئی ہے، وہاں اس سے مراد فرد کی اصلاح ہے، نہ کہ سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system)میں کسی قسم کے قانون کا بزور نفاذ۔
